۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
امام حسین کے خادم

حوزہ/ سعودی قلمکار اورسماجی کارکن نے امام حسین علیہ السلام کے چہلم پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عہدیداروں سے کہا کہ وہ ابا عبد اللہ الحسین کے خادموں سے مہمان نوازی سیکھیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی قلمکار امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر اور حج کے انتظامات کا موازنہ کرتے ہوئے سعودی حکام کو مخاطب قرار دیا ہے اور انھیں مشورہ دیا کہ وہ امام حسین کے خادموں سے مہمان نوازی سیکھیں،ندا آل سیف نے یہ کہتے ہوئے دونوں تقاریب کو منعقد کرنے کے انداز میں موازنہ نہیں کیا جاسکتا ،کہا کہ امام حسین علیہ السلام کے خادموں ،جنہوں نے کربلا کو جنت اور گلستان بنایا ہے اور ان لوگوں کے درمیان جنہوں نے خدا کے گھر کو ذبح خانہ اور سلاٹر ہاؤس میں تبدیل کردیا  ہےاور خانۂ خدا کے عازمین کو کرینوں ، لفٹوں (خدا کے گھر کے صحن میں لفٹ کے گرنے کا حوالہ دیتے ہوئے) اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حملوں  کے ذریعہ لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں۔

سعودی قلمکار نے لکھاکہ وقت آگیا ہے کہ کربلا میں موجود امام حسین علیہ السلام کے خادم ، حاتم طائی (جو عربوں میں سخاوت کے لئے مشہور ہیں) اورا ن جیسے دیگر افراد جو جو پوری تاریخ میں جود و کرم کے نام سے مشہور ہیں،کو مات دے دیں اس لیے کہ حاتم طائی کی سخاوت زوار امام حسین کے عراقیوں کی خدمت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے اور دکھائی ہی نہیں دیتی ہے،انھوں نے لکھا کہ حقیقت میں جس چیز نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مجبور کیا وہ دونوں تقاریب کا موازنہ کرنے پر حیرت تھی اور ان کو منعقد کرنے کا طریقہ تھا کیونکہ ایک طرف امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے لیے عراقیوں کا مادی اور معنوی ہر طرح کا احترام دیکھنے کو ملتا ہے اور دوسری طرف ہمارے ملک میں حاجیوں پر ہونے والے ظلم وستم پر نظر پڑتی ہے۔

محترمہ السیف ، جو سعودی عرب میں حجاج کرام کی مدد کے لئے رضاکار ہیں ،نے مزید کہا کہ پچھلے دس سالوں کے دوران جب مجھے متعدد جگہوں پر حاجیوں کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے،نجف اور کربلا کے مابین پیدل چلنے والے زائرین کو کھانا ، رہائش اور طبی خدمات سے لے کر جوتوں پر پالش تک کی ملنے والی مفت خدمات کے برعکس،مکہ میں ایک بوتل پانی سے زیادہ میں نے کوئی خدمت نہیں دیکھی جو میں نے ایک بار منیٰ میں لیا تھا،انھوں نے کہا کہ زائرین کربلا اور زائرن مکہ کو ملنے والی خدمتوں کے درمیان اتنا فرق ہے کہ  بیان کرنا مشکل ہے،پہلے میں لوگ مفت میں آپ کی خدمت کرتے ہیں اور التماس بھی کرتے ہیں اور دوسرے میں آپ کو دعا کرنی چاہئے کہ  خوراک ، رہائش اور نقل و حمل کی قیمتوں کے راکٹ کی رفتارسے اوپر جانےکو دیکھتے ہوئے آپ بھیک مانگنے پر مجبور نہ ہوجائیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .