۱۴ اسفند ۱۳۹۹ | Mar 4, 2021
آندھرا پردیش شیعہ علماء بورڈ

حوزہ/ آندھرا پردیش شیعہ علماء بورڈ کے صدر مولانا سید عباس باقری نے خطبۂ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے صدر کی اسلام دشمنی کوئی نئی بات نہیں ہے مگر اس طرح سے توہینِ رسالت کی رسمی و سرکاری طور پر حمایت نہ صرف فرانس میں موجود چھ ملیون سے زائد  مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہے بلکہ عالمِ اسلام کے لئے آزادئ بیان کی آڑ میں اس طرح کی توہینات ناقابلِ برداشت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آندھراپردیش/ روزِ جمعہ اور عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ہفتۂ وحدت کے موقع پر آندھرا پردیش کے مختلف مساجد میں ائمۂ جمعہ نے فرانس کے اسلام دشمن صدر کیمرون کے توہینِ رسالت کی حمایت میں بیان دینے پر سخت الفاظ میں احتجاج کرتے ہوئے فرانس کے محصولات کو بائیکاٹ کرنے کی اعلان کیا۔

آندھرا پردیش شیعہ علماء بورڈ کے صدر مولانا سید عباس باقری نے خطبۂ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے صدر کی اسلام دشمنی کوئی نئی بات نہیں ہے مگر اس طرح سے توہینِ رسالت کی رسمی و سرکاری طور پر حمایت نہ صرف فرانس میں موجود چھ ملیون سے زائد  مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہے بلکہ عالمِ اسلام کے لئے آزادئ بیان کی آڑ میں اس طرح کی توہینات ناقابلِ برداشت ہے، خطیبِ جمعہ نے رہبرِ انقلاب آیت اللہ خامنہ ای مدظلہ العالی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرانس کے خلاف سوال اٹھایا کہ ہولوکاسٹ کے مسئلہ پر آزادئ بیان کیوں نہیں ہے؟

شھر مچھلی پٹنم کے امام جمعه و آندھرا پردیش شیعہ علماء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا مرزا راشد حسین صاحب نے نمازِ جمعہ کے بعد فرانس کے صدر کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے صدر کی جانب سے کارٹون سازی کے ذریعہ توہینِ رسالت کی حمایت  ناقابلِ برداشت ہے اور کہا کہ ایسے موقع پر خود کو حرمَینِ شریفین کے خادم کہلوانے والے سعودی حکمرانوں کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا، ریلی میں موجود مومنین نے لبیک یارسول اللہ کے نعروں کے ساتھ ساتھ فرانس، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف بھی نعرے لگائے.

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 1 =