۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ/ مولانا سید علی ہاشم عابدی نے اپنے بیان میں کہا کہ قرآن کریم نے زوجہ و شوہر کو ایک دوسرے کے لئے لباس بتایا۔ لباس کا کام جسم کو چھپانے کے ساتھ ساتھ اسے گندہ ہونے سے بچانا، خطرات سے محفوظ رکھنا اور سکون و اطمینان دینا ہے اسی طرح یہ مقدس رشتہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد کالا امام باڑہ میں بعد نماز مغربین مجلس ترحیم کو خطاب کرتے ہوے مولانا سید علی ہاشم عابدی نے بیان کیا کہ گواہی اور میراث میں عورت کا حصہ مرد سے آدھا ہوتاہے لیکن اگر صاحب ایمان خاتون عمل صالح انجام دے تو اللہ اسے اسی طرح حیات طیبہ عطا فرماتا ہے جس طرح مومن مرد کو عمل صالح انجام دینے پرحیات طیبہ عطا فرماتا ہے۔  قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے "جو بھی صاحب ایمان عمل صالح انجام دے چاہے مرد ہو یا عورت اللہ اسے حیات طیبہ عطا کرے گا۔ 

مولانا سید علی ہاشم عابدی نے کہا کہ سماج میں آج جہاں بہت سی پریشانیاں ہیں وہیں ایک پریشانی شادی اور طلاق بھی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ طلاق ہی اسکا واحد حل ہے لیکن آخراسکی نوبت آئی ہی کیوں؟ اگر سنگ بنیاد میں مشکل ہوئی تو عمارت کبھی بھی صحیح نہیں ہو سکتی اسی طرح زندگی کے دوسرے معاملات میں اگر بنیاد ہی غیر مناسب ہو تو وہ معاملہ بہتر نہیں ہو سکتا۔ شادی کی بنیاد کفو ہونے پر ہے اور کفو ہونے کا اصل رکن قرآن و سنت نے دین و ایمان اور امانتداری بتایا ہے جیسا کہ رسول خداؐ ارشاد فرماتے ہیں اگر کوئی دیندار و امانتدار رشتہ مانگیں تو دوسرے دنیوی وجوہات کے سبب نہ ٹھکراو ورنہ فساد برپا ہو گا۔ اختلاف ہو گا۔

مولانا سید علی ہاشم عابدی نے روایت بیان کی کہ ہمارے دوسرے امام حسن مجتبی علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ مولا ہم کس سے اپنی بیٹی کی شادی کریں تو آپ نے فرمایا تقی یعنی صاحب تقوی و پرہیزگاری سے اگر وہ محبت کرے گا تو اکرام کرے گا اور اگر محبت نہ بھی کرے تب بھی ظلم ہرگز نہ کرے گا۔ یعنی انسانی زندگی کے اہم مسئلہ شادی میں معیار ایمان و تقوی ہے۔ شکل نہیں، خوبصورتی نہیں، پیسہ نہیں، عہدہ نہیں جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے کم پیسہ کے سبب رشتہ کو ٹھکرا دینے کو بڑی مصیبت بتایا۔ اگر اسلامی معیار پر عمل ہو تو اختلافات کے کم ہوں گے، طلاق کی شرح میں کمی  آئے گی بلکہ ختم ہو جائے گا۔ جیسا کہ کتابوں میںبہت سے واقعات ملتے ہیں کہ حضور نے سیاہ پوست غلاموں کی شادیاں انصار و مہاجرین کی بیٹیوں سے کرائی اور جب کسی نے اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا اسلام نے سارے دنیوی معیار ختم کر دیئے۔ اب صرف ایک معیار ہے وہ ایمان ہے، دین ہے، تقوی ہے۔

مولانا سید علی ہاشم عابدی نے بیان کیا کہ قرآن کریم نے زوجہ و شوہر کو ایک دوسرے کے لئے لباس بتایا۔ لباس کا کام جسم کو چھپانے کے ساتھ ساتھ اسے گندہ ہونے سے بچانا، خطرات سے محفوظ رکھنا اور سکون و اطمینان دینا ہے اسی طرح یہ مقدس رشتہ ہے۔ اور جس طرح موسم کی تبدیلی کے سبب لباس کی کیفیت بدل جاتی ہے اگر کیفیت میں تبدیلی نہ آئے تو سکون کے بجائے پریشانیاں درپیش ہوں گی اسی طرح اگر اس پاکیزہ رشتہ میں حلم و بردباری، عفو و بخشش کار فرما ہو تو مشکلات کے بجائے سکون و سلامتی انسان کا مقدر ہو گا۔ مولانانے واقعہ بیان کیا کہ یزید کی حوس کو پورا کرنے کے لئے اس کے باپ نے سازش رچی جس کے نتیجہ میں ارینب کو اس کے شوہر نے طلاق دے دیا۔ لیکن امام حسین علیہ السلام نے اپنا رشتہ بھیج کر اس کی سازش کو ناکام بنایا اور ایک گھر برباد ہونے سے بچا لیا۔ اگر اس واقعہ پر غور کیا جائے کہ تو چند باتیں سامنے آتی ہیں۔ کبھی بھی دوسرے کے بہکاوے اور لالچ کے سبب اس مقدس رشتہ کو ختم نہیں کرنا چاہئیے ورنہ دھوکہ اور فریب ہی مقدر ہو گا۔ دوسرے کا گھر برباد کرنا اموی فریب ہے اور گھر آباد رکھنا اور اسے بچانا امام حسین علیہ السلام کی سیرت ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .