۳۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 20, 2024
سید شمشاد علی کٹوکھری

حوزہ/آپ کی پوری زندگی دین و ملت کی خدمت میں گزری،آپ کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آپ منادی اتحاد تھے لیکن مذہب اور مذہبی وقار و مفاد پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حکیم امت مولانا سید کلب صادق نقوی طاب ثراہ کے انتقال پر حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید شمشاد علی کٹوکھری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتی پیغام ارسال کیا ہے:

تعزیت نامہ کا مکمل متن اس طرح ہے؛

         باسم الحى الذى لا يموت         

  جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
  کہیں   سے   آبِ  بقائے   دوام    لے   ساقی

موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں کسی بھی چیز میں پائداری نہیں ہے ہر وہ شئے جو وجود رکھتی ہے " كل من عليها فان " کے مطابق ایک روز ضرور فنا ہو جائے گی لیکن کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کو موت نے حیات جاوداں عطا کی ہے وہ مرکر بھی ہم سب کے بیچ موجود ہیں

ان ہی شخصیات میں سے ایک شخصیت ، ممتاز عالم دین عالیجناب مولانا سید کلب صادق صاحب قبلہ (دامت برکاته ) ہیں جو طولانی علالت کے بعد بزم رفتگاں کا ایک حصہ بن گئے

آپ کی موت کی افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں تھی اس لئے کہ اہم شخصیات کی موت کی جھوٹی خبریں باربار آتی رہتی ہیں

لیکن آج کی رات عالم فانی کی وہ حسرت ناک رات ہے جس نے بر صغیر کے افق سے رنگینی چھین لی۔ کچھ دیر پہلے آپ کی موت نے بیکس کی فغاں کی طرح جگر کو تارتار کردیا عجب قیامت کا حادثہ ہے بر صغیر کی رونق چلی گئی آپ کے سانحئہ ارتحال اور الم ناک خبر نے دل و دماغ پر بجلی گرا دی

آہ ملت اسلامیہ کی تمناؤں کے مرکز ، سماجی خدمت گزار ، قوم کی کشتی کے ناخدا ہمارے درمیان نہیں رہے۔ بیداری قوم و ملت کےلئے آپ نے بانگیں دیں تعلیم کو فروغ دینا آپ کا شعار تھا تسخیر قلوب جس کی ذاکری کا جزو لاینفک تھی

بہت کم شخصیتیں ایسی گزری ہیں جو اپنی حیات اور بعد مرگ شہرت و ناموری کی معراج پر پہنچی ہوں ان میں سے ایک ایسی ہی نابغئہ روزگار شخصیت مولانا کلب صادق صاحب کی ہے جن کی شہرت کا آفتاب ہمہ وقت اوج ثریا پر مقیم رہا
صادق کے متعلق یہ قول و شعر

 ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی  ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

سو فیصد صادق آتا ہے

آپ کی پوری زندگی دین و ملت کی خدمت میں گزری،آپ کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آپ منادی اتحاد تھے لیکن مذہب اور مذہبی وقار و مفاد پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اس فانی دنیا سے آپ رحلت فرماگئے لیکن آپ کے زریں ، تابندہ اور درخشاں کارنامے مرور ایام کے ساتھ اور روشن ہوتے چلے جائیں گے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ " اَخُوالعِلم حَى خَالِد بَعدَ مَوتِه " اہل علم تو مرکر بھی دائمی اور ابدی زندگی پاتے ہیں۔


ایک مرتبہ مرحوم نے مجھ سے فرمایا (شمشاد سے)"شم " کو ہٹا دیجیئے اور ہمیشہ شاد رہیئے 

خدا بحق محمد و آل محمد آپ کی روح کو شاد فرمائے اور آپ کو جوار معصومین ( صلوات الله عليهم ) میں جگہ عنایت فرمائے اور آپ کی شریک حیات ، اولاد ، احباب ، رشتے داروں اور علماء و مومنین کوصبر جمیل و جزیل نصیب فرمائے

اور آپ کے ادارہ و تحریک تعلیمی فروغ کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے

سید شمشاد علی کٹوکھری
خادم ادارہ " دارلعترت "
قم المقدسہ ایران
8 / ربيع الثانى / 1442 ھ.ق

تبصرہ ارسال

You are replying to: .