۶ خرداد ۱۴۰۳ |۱۸ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 26, 2024
محمد باقر رضا سعیدی

حوزہ/کہنے لگے کہ میں جو بعض اوقات مولویوں کو برا کہتا ہوں اس میں قم والے شامل نہیں ہوتے ہیں قم والے واقعا کام کررہے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ایسے قوم کے مصلح اور دور اندیش علماء و دانشوران بڑی مشکل سے بنتے ہیں جن میں دور اندیشی کے ساتھ ساتھ عملی جد و جہد کی جڑیں بھی ہوں۔ ورنہ متفکر، مفکر، دور اندیش اور قوم کے لئے فکر مند تو بہت سے لوگ ہیں لیکن ان مشکلات کے لئے عملی دنیا میں عملی راہیں پیدا کرکے ان پر خود عمل پیرا ہونا بس کچھ لوگوں کے ہی توفیقات میں شامل ہوتا ہے۔ انھیں میں سے ایک شخصیت کا نام ڈاکٹر کلب صادق ہے۔ 
آج ان کے لئے سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے دل میں آتا ہے کہ کاش ہماری عمر ان کو لگ جاتی اور وہ اور زیادہ قومی خدمات دے سکتے۔
والد محترم کے سبب مولانا ہمیں کافی قریب سے جانتے تھے۔ اور شگوفہ کلامی آپ کے اندر خدا نے ودیعت کی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ امروہہ میں ایک بار حسن اتفاق سے والد محترم بھی تھے اور ڈاکٹر صاحب بھی، اتفاق سے میں بھی پہنچ گیا تو بڑے تپاک سے ملے اور کہا کہ ہم رجیٹی آئیں گے "ٹی" پینے کے لئے. اس دن سے میں ذہن میں کئی طرح سے ان کو ٹی پارٹی پر بلانے کا منصوبہ بنا رہا تھا لیکن افسوس کہ یہ منصوبہ پورا ہونے سے پہلے مولانا بارگاہ اللہ کی تقریب میں مدعو کر لئے گئے۔  اے بسا آرزو کہ خاک شدہ


باوقار ہونے کے ساتھ ان کی بے تکلفی اور انکساری بھی اپنی مثال آپ تھی جس میں وہ خود گرنا برداشت کرلیتے تھے لیکن اغراض ومقاصد کو نہیں گرنے دیتے تھے۔ چنانچہ مسلمانوں کی ترقی کے سلسلہ میں منعقد ہونے والے پروگرام میں مولانا ایران تشریف لائے اور کہا کہ آپ کے سامنے میرے منصوبے اور میری باتیں حرف آخر نہیں ہیں آپ مجھ سے چھوٹے ہیں میرے بچوں جیسے ہیں آپ مجھ سے بحث کیجئے مجھ سے لڑئیے۔


آپ اتحاد کے علمبردار بھی تھے چنانچہ اسی سیمینار میں اہلسنت کے ایک نمائندے کو بھی ساتھ لیکر آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ اتحاد مسلمین کے لئے کم از کم ہم مدرسہ میں صرف اعلان کریں کہ اہل سنت کے فلاں مدرسہ میں شیعہ بھی داخلہ لے سکتے ہیں یا شیعوں کے فلاں مدرسہ میں اہل سنت بھی داخلہ لے سکتے ہیں۔ 
آپ سال ہا سال تک کراچی و حیدر آباد مجالس عزاء کے لئے جاتے رہے اور آپ کی مجلسوں میں لاتعداد لوگ آپ کو سننے آتے تھے۔ حیدر آباد میں میرے تائے ابا مولانا منظور حسین طاب ثراہ کا دولت خانہ تھا اور آپ ہمیشہ ان سے ملاقات کے لئے ضرور جاتے تھے کیونکہ وہ جامعہ ناظمیہ میں آپ کے استاد رہ چکے تھے اور ہمیشہ شفقت استادی سے نوازتے تھے اس طرح کہ آپ کچھ کم ظرفوں کی طرح خود استادی کا خراج نہیں وصول کرتے تھے بلکہ شاگردوں کے ساتھ بڑی بے تکلفی سے بیٹھتے تھے اور حتی شاگرد ہونے کے باوجود ڈاکٹر صاحب کی مجلس میں بنفس نفیس جانے میں کوئی سبکی محسوس نہیں کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب نہ صرف اپنے استاد ہونے کی وجہ سے ان کے لئے منکسر تھے بلکہ ان کی رحلت کے بعد جب میرے والد حیدر آباد میں عشرہ پڑھ رہے تھے اور ڈاکٹر صاحب بھی وہیں پر مجلس سے خطاب کررہے تھے تو خود ڈاکٹر صاحب میرے والد سے ملنے کے لئے ان کی قیام گاہ پر تشریف لائے اور میرے والد بھی ان سے ملنے کے لئے گئے لیکن میرے والد صاحب سے بزرگ ہونے کے باوجود ڈاکٹر صاحب نے پہل کی اور اس کے لئے میرے والد نے بھی ان کی تعریف کی۔ در حقیقت والد محترم کا ارادہ تھا کہ پہلے وہ ملاقات کے لئے جائیں لیکن عملی طور سے ایسا نہ ہوسکا۔


آخری بار کئی سال قبل لکھنؤ میں آپ سے ملاقات ہوئی درحقیقت میں کتب شناسی، علماء، تاریخ حوزات علمیہ ہندوستان وغیرہ پر تحقیقی کام میں مصروف تھا آپ نے بڑا پرتپاک استقبال کیا۔ بلکہ جب میں نے ان کو اپنی مصروفیت کے بارے میں بتایا تو کہنے لگے کہ میں جو بعض اوقات مولویوں کو برا کہتا ہوں اس میں قم والے شامل نہیں ہوتے ہیں قم والے واقعا کام کررہے ہیں۔ پھر دوپہر کا وقت ہوگیا اور ہم یونٹی کالج سے انھیں کی گاڑی میں ایرا ہاسپٹل کی طرف چلے گئے جہاں انھوں نے ایک نسبتا بڑا اسٹوڈیو بھی بنا رکھا تھا در حقیقت وہ اسی کو دکھانے مجھے لائے تھے اور کہنے لگے اس میں جو کچھ کمی بیشی ہو بتاؤ۔ باقی کچھ لوگوں سے ہنستے ہوئے کہا کہ ویسے تو میرا نام صادق ہے اور ان کا نام باقر ہے لیکن یہ میرے بیٹے کی طرح ہیں۔


میں نے وہاں ان کو کتابوں کے بارے میں انجام پانے والے کام کو ایکسل پر دکھایا کیونکہ اس وقت تک سائٹ تیار نہیں ہوئی تھی۔ آپ بڑے خوش ہوئے اور کہا کہ ہاں بیٹا واقعا اچھا کام ہے اور میں نے ابھی تک کتابوں کے سلسلہ میں اس نوعیت کا تفصیلی کام نہیں دیکھا۔
کچھ دیگر محققین کے حوالے سے میں نے ذکر کیا کہ وہ کہتے ہیں شیعہ کتبخانے محققین و قلمکاروں کے لئے آسانی پیدا نہیں کررہے ہیں تو کہنے لگے کہ ہر کتبخانے کے دروازے پر ایک ناگ بیٹھا ہے۔ پھر اپنے زیر اثر ایک کتبخانے کے مدیر کو فون کرکے کہا کہ یہ باقر ہیں یہ جس کتاب تک دسترسی چاہیں ان کی مدد کیجئے۔ اس کے بعد ان صاحب کے ذریعے میں نے کتبخانے کی کچھ کتابوں کے سلسلے میں کوشش کی لیکن دیگر محققین کی بات میرے لئے بھی عملی طور سے ثابت ہوگئی کہ ہر کتبخانے کی دروازے پر ایک ناگ بیٹھا ہوا ہے۔


آپ نے مجھے متعلقہ موضوع کے لئے ندوۃ العلماء جاکر علی میاں ندوی کے والد کی تالیف نزہۃ الخواطر دیکھنے کے لئے بھی کہا اور اس بہانے ندوہ کو نسبتا قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
اپنی بات کہنے میں بے باک اور صاف گوئی بھی آپ کے خصوصیات میں تھی مجھے یاد ہے کہ جب چند سال پہلے لکھنؤ میں آپ سے ملاقات ہوئی تو میں نے علمی و تحقیقی کام بیان کرنے کے آخر میں کہا کہ انشاء اللہ پھر ایک سیمینار کریں گے تو فورا طنز میں کہنے لگے اچھا آپ بھی سمینار کرنے لگے، نہیں میرے پاس سیمینار کا وقت نہیں ہے، آپ کو وقت نہیں دے سکتا۔ لیکن جب میں نے مزید وضاحت کی اور تفصیلات سے آگاہ کیا تو وہ جملہ کہا کہ قم والے کچھ الگ ہیں اور وہ واقعا کام کررہے ہیں۔
کاروبار دنیا تو ہمیشہ کی طرح چلتا رہےگا، لوگ اس میں آتے رہیں گے اور جاتے رہیں گے لیکن سچے صادق لوگ بہت کم آتے ہیں اسی لئے ان کا جانا بہت کھل جاتا ہے۔
اے خدا تو نے قرآن میں فرمایا کہ ہم جب کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں تو اس جیسی یا اس سے بہتر لے آتے ہیں لہذا تو ہی کسی طرح اس خلا کو پورا کر جو آج پیدا ہوا ہے۔
محمد باقر رضا سعیدی
قم المقدسہ
25/11/2020

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .