۳۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 20, 2024
مولانا ڈاکٹر کلب صادق

حوزہ/ مرحوم اپنی تمام صفات حمیدہ کے علاوہ  نظم وضبط اورپابندی وقت کاخاص خیال رکھتے تھے اوریہ آپ ہی کاخاص طرزتھاکہ بہت سےلوگ آپ کودیکھ کے منظم ہونے لگے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جلیل القدرعظیم دانشور مولانا ڈاکٹر کلب صادق کی رحلت پر حوزہ علمیہ آیۃ اللہ خامنہ ای،بھیک پور سیوان،بہار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کی۔

تعزیت نامہ کا مکمل متن اس طرح ہے:

اناللہ واناالیہ راجعون

جلیل القدرعظیم دانشور مولانا ڈاکٹر کلب صادق کی رحلت پرآج پوری قوم رورہی ہے۔اسکی وجہ بھی یہ ہے کہ!مرحوم نےسماج وقوم کی خدمات میں انتھک کوششیں کیں مرحوم نے مختلف ادیان ومذاہب کے درمیان اتحاد وبقائے باہمی وجودمیں لانے کے سلسلے سے سرزمین ہندوستان پربھی ایک اہم کرداراداکیاہے۔

آپ پردانشوروں کومکمل بھروسہ تھا کیونکہ آپ ہمیشہ لوگوں کوزیورتعلیم سے آراستہ ہونے اور انکی ترقی کےکوشان تھے ۔

مرحوم اپنی تمام صفات حمیدہ کے علاوہ  نظم وضبط اورپابندی وقت کاخاص خیال رکھتے تھے اوریہ آپ ہی کاخاص طرزتھاکہ بہت سےلوگ آپ کودیکھ کے منظم ہونے لگے۔

آپ نے چونکہ اس علمی خانوادے میں آنکھ کھولی جہاں ہروقت دینی  اورقومی مسایل پرگفتگوہواکرتی تھی،اسی سبب آپکا ذہن اس طرح متاثرہواکہ کمسنی کہ عالم سےقومی مسایل سے دلچسپی شروع ہونے لگی اورشعورکی پختگی پراس گھرانے کی امیدوں پرچارچاندلگناشروع ہوا،والدین کی دعاوں کے ذریعے کامیاب وکامران ہوتے رہے۔

آپکی ذاکری کے بھی ایک الگ رنگ  ہواکرتے تھے جس  سےعزادار ان امام حسین ؑبہت فایدہ اٹھایاکرتے تھے،اسکا اجربھی حضرت فاطمہ زہرا [س] روزقیامت ضرورعطاکرینگی ،آپ امام حسینؑ کے شیدائی تھے آپ کے پاس پہوچ گئے۔

ہم طلاب حوزہ ومدرسین  اس عظیم  المرتبت ہستی کی رحلت پرحضرت ولی عصر عج،ہندوستان کے حوزات علمیہ علے الخصوص حوزہ علمیہ لکھنو،مومنین لکھنواورمرحوم مغفورکے لواحقین اورانکے صاحب زادوں کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔

طلاب و مدرسین؛ سبط حیدر اعظمی

حوزہ علمیہ آیۃ اللہ خامنہ ای،بھیک پورسیوان،بہار

۹ربیع الثانی/۱۴۴۲

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .