۱۰ اسفند ۱۳۹۹ | Feb 28, 2021
سلمان عابدی

حوزہ/جو خون پینے کی پیاس قابیل سے  چلی ہے؛ابھی تلک وہ کہاں بجھی  ہے؛وہ قلب داعش میں آج بھی ہے؛یہ خون ناحق جو خاک"مچھ "سے مہک رہا ہے؛گواہ بن کر چہک رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی l

سلمان عابدی 

لہو کا سورج افق سے پھر کویٹہ کے نکلا 
تو لال کرنوں سے
سج گئی سر زمین اس کی
وہ کان کن جن کا خوں  سرنگوں میں جل رہا تھا 
وہ بجھ گیا تو 
نجانے کتنے بجھے ہزارہ گھروں کے چولہے 
سہاگ اجڑے
غبار ماتم سے اٹ گئے بال بیوگی کے 
سڑک پہ لاشوں کو رکھ کے مائیں پکارتی ہیں 
کوئی تو اٹھے 
کوئی تو بولے 
کوئی تو ظالم کا ہاتھ روکے 
یہ سنگ دل حکمران طبقہ کی آنکھ جب تک کہ نم نہ ہو گی
ہر آنے والی سحر قیامت سے کم نہ ہو گی
جو خون پینے کی پیاس قابیل سے  چلی ہے 
ابھی تلک وہ کہاں بجھی  ہے 
وہ قلب داعش میں آج بھی ہے
یہ خون ناحق جو خاک"  مچھ "سے مہک رہا ہے
گواہ بن کر چہک رہا ہے
یتیم بچوں کے پیٹ کی آگ جانے اب کس طرح بجھے گی
یہ سوچتی ہوں گی ان کی مائیں 
چلائیں اب کس طرح گھروں کو 
ابالتی ہوں گی پتھروں کو
کوئی تو بولے 
کوئی تو اٹھے 
کوئی تو داعش کےہاتھ کاٹے 
فقط دلاسوں سے مسئلہ کوئی حل نہ ہوگا 
تحفظ خون نسل آدم کا وعدہ جب تک اٹل نہ ہوگا

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 1 =