۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
شورش در آمریکا

حوزہ/ امریکہ ٹرمپ کی صدارت کے آخری ایام کا مشاہدہ کررہا ہے، کانگریس کی نمائندگی میں عوامی احتجاج اور بغاوتوں نے، ان دنوں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،بدھ کے روز امریکی کانگریس کے توسط سے انتخابی ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی تھی،اس دوران کشیدگی بڑھ گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ناراض حامی کانگریس کی عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق،صدارتی انتخابات کے نتائج کےمخالفین کی احتجاجی ریلیوں میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔واشنگٹن میں فسادات کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ٹرمپ کے حامی سیکیورٹی اور کانگریس کے محافظوں کے حفاظتی انتظامات توڑ کر عمارت میں داخل ہوگئے۔

ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کانگریس کی عمارت میں اپنے حامیوں کے داخل ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ براہ کرم کیپیٹل پولیس (کانگریس پولیس) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کریں۔وہ واقعی ہمارے ملکی مفادات کے لئے کام کرتے ہیں۔
امریکی میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ کے حامی مظاہرین ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے دفتر میں داخل ہوئے تھے۔پولیس نے ایوان نمائندگان کو خالی کرا لیا۔

دریں اثنا،واشنگٹن کے میئر نے اعلان کیا کہ شام 6 بجے سے شہر بھر میں کرفیو نافذ ہوگا۔

امریکی میڈیا نے،واشنگٹن میں صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد حامیوں کی گرفتاری کی اطلاع بھی دی ہے۔

سی این این نیوز ویب سائٹ کے مطابق ، ٹرمپ کے حامی سڑکوں پر نکلتے ہی واشنگٹن میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے سیکڑوں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

امریکی کانگریس میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی بدترین شکست کے بعد سے جمہوریت کے دعویداروں کی جانب سے کشیدگی،احتجاج اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 1 =