۱۱ اسفند ۱۳۹۹ | Mar 1, 2021
رهبر انقلاب

حوزہ/ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آج 19دی قیام قم اور حوزہ علمیہ قم کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ قیام امریکہ مخالف قیام تھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج 19دی قیام قم اور حوزہ علمیہ قم کی برسی کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ خطے کو نقصان پہنچانے اور غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے البتہ کچھ غدار اور خائن ممالک امریکہ کی ہمراہی کر رہے ہیں۔

خطاب کا مکمل متن مندرجہ ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الحمد للہ رب العالمین 

اس سال قیام قم اور حوزہ علمیہ قم کی مناسبت سے برادران قمی کی ملاقات سے، کورونا کے پیش نظر محروم رہا ان شاء اللہ یہ ایام بھی بہت جلد گزر جائیں گے۔
19دی ایک حادثہ کا دن ہے۔ اس سے قبل کہ میں اس موضوع پر بات کروں ملت ایران کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، شہدائے مقاومت سردار قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی برسی کی تقریبات بہترین طریقے سے منعقد کیں۔ شہدائے مقاومت کی یاد میں دنیا بھر میں پروگرام منعقد کیا گیا اور بغداد میں بڑے پیمانے پر پروگرام منعقد کرایا گیا میں اس موقع پر ، شہدائے مقاومت کے ساتھ شہید ہونے والے شہداء کا تذکرہ کرنا بھی اپنے اوپر ضروری سمجھتا ہوں شہید پور جعفری،شہید زمانیان اور شہید قاسم سلیمانی کی تشییع میں پیش آنے والا حادثہ نیز ہوائی جہاز کو پیش آنے والے حادثے میں شہید ہونے والوں کو خداوند غریق رحمت کرے، واقعتاً یہ حادثہ بہت ہی تلخ حادثہ تھا۔

مایہ ناز سائنسدان ڈاکٹر شہید محسن فخری زادہ کے چہلم کی مناسبت سے ان کا تذکرہ بھی ضروری ہے یہ شہید ایک عظیم علمی سرمایہ تھے۔
انہی کچھ مہینوں کے اندر ہماری کچھ عظیم علمی شخصیات ہم سے بچھڑ گئیں ان میں سے ایک آیت اللہ مصباح یزدی اور ایک شہید فخری زادہ تھے ، ان عظیم لوگوں نے میراث علمی چھوڑ گئے ہیں ہمیں ان کی راہ پر گامزن رہنے کی ضرورت ہے۔

لیکن قیام 19دی کے حوالے سے عرض ہے کہ ہمیں اس قیام کی یاد کو ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنے کی ضرورت ہے اور اس حادثے کے درس اور مقاصد کو بیان کرنے کی ضرورت بھی ہے کیونکہ آج کل مختلف ذرائع ابلاغ کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ ان حادثات میں تحریف کریں اور اپنے مفادات کے لئے استعمال کرے۔

یہ قیام ملی و قومی اقتدار کا ذریعہ تھا ، یہ قیام صرف قم المقدسہ تک منحصر نہیں رہا بلکہ پورے ایران میں سرایت کر گیا شروع کرنے والے قمی تھے لیکن مختلف شہروں حتی دیہات تک لوگوں نے قیام کیا اس طرح یہ قیام قومی و ملی وقار کا ذریعہ بنا۔

قیام قم یعنی غاصب شہنشاہی حکومت کے خلاف غم و غصے اور افکار انقلابی کی بنیاد پر قیام،البتہ ان افکار کی پشت پر امام راحل (رح) کے مدبرانہ پالیسیوں کے افکار کار فرما تھے ، لہٰذا یہ قیام پوری طرح سے دینی اور مذہبی تھا۔

یہ قیام امریکہ اور استکبار جہاں کے خلاف ایک عظیم قیام تھا ، امریکہ اور استکبار جہاں مکمل طور پر شہنشاہی حکومت کی پشت پناہی کر رہے تھے۔

جب یہ قیام وجود میں آیا تو یہی امریکہ حقوق بشر کا نعرہ لگانے لگا اور آج امریکہ کچھ دنوں بعد ایک سیاہ فام کا قتل کرتا ہے اور ایک طرف سے اقتصادی بحران کا شکار ہے۔واقعتاً مسخرہ ہے پھر بھی حقوق بشر کی بات کرتے نہیں تھکتا۔

امریکہ خطے کو نقصان پہنچانے اور غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے البتہ کچھ غدار اور خائن حکومتوں کی ہمراہی بھی حاصل ہے۔امریکہ ایران سمیت دنیا کے مختلف ممالک جیسے شام، لبنان اور عراق کو غیر مستحکم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے اور ان ممالک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کبھی داعش کو مسلح کرتا ہے اور کبھی 88کا فتنہ برپا کرتا ہے۔

پابندیوں کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے۔
امریکی پابندیاں غیر آئینی اور غیر انسانی ہیں ، یہ پابندیاں صرف ایرانی حکومت اور نظام پر نہیں ہیں بلکہ ملت ایران کے خلاف غیر انسانی عمل ہے۔
ان پابندیوں کو فوری طور پر برطرف کیا جائے لیکن میں کئی بار کہہ چکا ہوں اور آج دوبارہ عرض کرتا ہوں ، پابندیاں ہوں یا برطرف ہوں ہمیں اپنے اقتصادیات کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے۔

ایران کی مختلف خطوں میں موجودگی اپنے ہمسایہ اور برادر اسلامی ممالک کو مضبوط کرنے کیلئے ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ایران اپنا دفاع نہیں کر سکتا تھا لیکن الحمدللہ آج ہمارا دفاعی سسٹم بہت ہی مضبوط ہو چکا ہے۔
کچھ باتیں کورونا کے بارے میں بھی کرنا چاہتا ہوں کہ 1- سب سے پہلے تو میں ویکسین تیار کرنے والی میڈیکل ٹیمیں کا شکریہ ادا
کرتا ہوں ، بہت ہی خوشی اور مسرت کا باعث بنا ، یہ اقدامات پوری طرح جاری رہے۔
2- امریکہ کی ویکسین کا ایران میں داخلہ ممنوع ہے کیونکہ امریکہ کے پاس طاقت ہوتی تو وہ بہت پہلے یہ تیار کر لیتا آج سب سے زیادہ نقصان امریکہ میں ہو رہا ہے۔
3- اگر چہ ویکسین انسانی تجربے کے مراحل طے کر چکی ہے اور یہ تجربہ کامیاب بھی رہا لیکن پھر بھی ہمیں شعبہ صحت کی ہدایات پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہت جلد یہ بیماری ختم ہو سکے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 0 =