۲۳ تیر ۱۴۰۳ |۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 13, 2024
News ID: 365644
8 فروری 2021 - 12:27
ادیب الہندی

حوزہ/ صدر ضیاء الحق کا یہ اعتراف بھی انہیں کھٹک رہا ہے کہ ایران عراق جنگ میں عراق جارح ہے ،ہند و ایران کی بڑھتی ہوئی دوستی بھی انہیں کھٹک رہی ہے لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابیاں اب متاثرہونے والی نہیں ہیں۔

از قلم: حجۃ الاسلام الحاج مولانا مجتبی علی خاں قبلہ ادیب الہندی طاب مثواہ

حوزہ نیوز ایجنسیدنیائے اسلام کو جمہوری اسلامی ایران کی ساتویں سالگرہ مبارک ہو ۔ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہی کی لعنت سے چھٹکارا پا لینے والے ایران نے جب آزادی کی سانس لی تو اس کی ظاہری ناتوانائی دیکھ کر سارے سیاسی پنڈت یہ فیصلہ کر بیٹھتے تھے کہ اسلامی ایران زیادہ دنوں نہ چل سکے گا اورمدرسوں کے مکین زیادہ دنوں حکومت نہ سنبھال سکیں گے سیاسی پنڈتوں کے اس فیصلہ کی بنیاد صرف اور صرف  یہ تھی کہ ایران کے پاس نہ توظاہری وسائل ہیں اور نہ ہی کسی بڑی طاقت کا شیرازہ داد حاصل ہے وہ سمجھتے تھے کہ بغیر ان بڑی طاقتوں کے کوئی آزاد حکومت زندہ نہیں رہ سکتی ۔مگر ایران کے عوام نے مدرسوں کے مکینوں کی قیادت میں یہ بات ثابت کردی کہ دنیا پر چھائے ہوئے شیطان کوئی حقیقت نہیں رکھتے اوراگر اللہ کے بندے اپنے مالک پربھروسہ کریں تو یہ طاغوت ان کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتے ۔

۱۱؍فروری  ۱۹۷۹ء؁کو ایران نے اسلامی حکومت کا اعلان کر دیا اور کرہ ارض پر اسلام کے نام پر نہیں بلکہ اسلامی قوانین کی بنیاد پر ایک اسلامی حکومت بنائی ،مشرق و مغرب نے اس کی بھرپور مخالفت کی اوردنیا کی نظروں سے گرانے کے لئے ہرممکن طریقہ اختیار کیا وہاں قتل عام ہورہا ہے ،وہاں بے گناہ مارے جارہے ہیں ،وہاں کوئی قانون نہیں ،ایک ایسا پروپگنڈا جس سے غیر تو غیر اپنے بھی شک وشبہات میں مبتلا نظر آنے لگے اسی درمیان عراق کو تیار کیا گیا کہ وہ ناتواں ایران پر یلغار کرے اور اسلام کا دم بھرنے والوں سے ان کا یہ حق بھی چھین لے کہ وہ اپنے ملک میں اسلامی قانون نافذ نہ کرسکیں بلکہ اپنے ملک میں اپنے عوام کی مرضی سے اسلامی قانون نافذ کرنے کی سزا یہ دی جائے کہ اس ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے جائیں اسے مختلف ملکوں کے قبضوں میں دے کر پھر ایک مد ت طویل تک کے لئے اسلامی تحریک کوخاموش کر دیا جائے۔

ستمبر   ۸۰ء؁  میں عراق کی یلغار شروع ہوئی ، ہزاروں بے گناہ مارے گئے ، ہزاروں گھر تباہ ہوئے ،مال و متاع لٹا،بر و بحر سے ایران پرحملے ہو رہے تھے ۔ہرطرف سازشوں کے جال بچھے تھے ۔فتح کے ترانے گائے جارہے تھے کوئی نہ تھا جو ایران کی مدد کو پہونچتا، ساری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی وہ لوگ بھی جو کل تک ایران میں بے گناہوں کے قتل عام  پر بے حد مضطرب آتے تھے اس یلغار کو دیکھ کر ساری باتیں بھول گئے ۔اب عراق کی جنگ اسلامی جنگ نظر آنے لگی ،قادسیہ کی یاد تازہ کی جانے لگی۔۔۔۔۔۔۔جانے لگے اور جب اللہ کے بندوں نے اللہ اکبر کی گونج میں جوابی حملہ کیا تو ایک دفعہ پھر ساری دنیا کو خون کی قیمت کا احساس ہونے لگا، بے گناہوں کی اہمیت کا اندازہ ہونے لگا اور جیسے جیسے ظالموں کے قدم اکھڑنے لگے اسی رفتار سے اللہ کی دہائی اورانسانیت کی دہائی دی جانے لگی ۔اب یہ جنگ بے مقصد نظر آنے لگی گویا جب ایران کے ٹکڑے کئے جارہے تھے اس وقت بامقصد جنگ تھی اور جب مظلوم نے ظالم کو ظلم کی سزا دینا شروع کی توجنگ بے مقصدہوگئی !!!

خداکاشکرہے کہ گلی گلی قادسیہ صدام کاجشن منانے والے اب ہوا کے رخ کو دیکھ کر اپنی وفاداریاں بدل رہے ہیں ہر محاذ پر ایران کی کامیابی ساری دنیا کو بتا رہی ہے کہ ’’ان ینصرکم اللہ فلاغالب لکم ‘‘ اللہ کے نام لیوا شکست
کھانے والے نہیں ہیں شکست تو ان کا مقدر ہے جو حق سے ٹکراتے ہیں ’’انتم الاعلون ان کنتم مومنین‘‘ 
تم ہی بزرگ و برتر رہو گے اگر تم مومن رہے۔

قرآن کے وعدہ پورے ہو کر رہیں گے صرف صدق دل سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔کامیابی کی اس عظیم نعمت کو جو ایران نے حاصل کی ہے دکھانے کے لئے دنیا کے گوشے گوشے سے افراد بلائے جاتے ہیں کہ وہ ایران آکر خود اپنی آنکھوں سے اللہ کی رحمت کو دیکھیں ۔افراد جاتے ہیں مگر بقدر فہم ہی حقیقت سے واقف ہو پاتے ہیں ،کچھ دیکھنے والوں کو یہ افراد خلوص کا پیکر اور اسلامی قانون کے محافظ نظر آتے ہیں تو کچھ ایسے افراد ہیں جو وہاں سے لوٹتے ہیں تو انکی آنکھوں پرتعصب کے پردے پڑے رہتے ہیں اور حق سے سامنے ہوتے ہوئے بھی وہ دیکھنے سے محروم رہتے ہیں ۔

ایران کی کامیابی الہی دستور اور قرآنی احکامات کی پیروی میں ہے اور جب تک وہ اس راستے پر گامزن  ہیں کوئی دنیاوی طاقت اسے ختم نہیں کرسکتی اور ہر سال  ۱۱؍فروری کو جشن آزادی منا کر وہ دنیا والوں کوصراط مستقیم کی طرف دعوت دیتے ہیں اور حق کی قوت اوراس کی عظمت کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

آج بھی جب یہ اسلام کے فدائی انقلاب اسلامی کی ساتویں سالگرہ منارہے ہیں تو ساری دنیا کو اسلامی انقلاب کے اثرات کا فکر و نظر کی گہرائی سے جائزہ لینے کی دعوت دے رہے ہیں ۔ ۷؍سال قبل بظاہر ایک ضعیف وناتواں مرد مجاہد حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ امام خمینی مدظلہ العالی کی قیادت میں رونما ہونے والا انقلاب آج ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے نصرت الہی کی قوت و طاقت کا احساس زمانے بھرکوہوچکاہے ۔صدائے اللہ اکبرکی گونج نے باطل طاقتوں کے نقاروں پرغلبہ حاصل کر لیا ہے ۔طاغوتی طاقتوں کے سرجھک چکے ہیں ۔شیطان بزرگ امریکہ کو نفسیاتی شکست اور پے در پے ذلتوں کا سامنا ہے ۔وہ واقعہ طبس ہو یا ایران میں امریکی سفارت خانہ کی سازشوں کا انکشاف ، وہ مسئلہ لبنان یا لیبیا کے خلاف امریکی کاروایئوں کی بے اثری یاخلیج فارس میں امریکی جہاز کی تلاش پر امریکا کی بوکھلاہٹ ہو  ہرجگہ وہ  اور اس کے جیسے ذلیل ہورہے ہیں۔امریکا اب تک اس لئے سر بلند تھا کہ وہ مادی طاقتوں پر برتری حاصل کرنے کے لئے سرگرم عمل تھا لیکن آج اس کیلئے سرنگوں ہے کہ اس نے روحانی قوت سے ٹکرانے کی غلطی کی تھی ۔

ایرانی انقلاب اسلامی کے اثرات نے بڑی بڑی طاقتوں کو ذلیل کر کے ثابت کر دیا ہے کہ ’’العزۃ للّہ جمیعاً‘‘   خزانہ عزت صرف اللہ کیلئے ہے اب ان اسلامی ملکوں کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے کہ ان طاقتوں کاسہارا نہیں لیاجاسکتا جو اس وقت خود سہاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔ایرانی عوام کی سال بسال کی ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ جو بھی کر رہےہیں وہ دین کی سربلندی کیلئے کررہے ہیں اپنی ذات کے لئے نہیں’’’کلمۃ اللّہ ھی العلیا‘‘ (الہی کلمہ ہی سربلندہے ) کی صداقت آشکار ہوتی جا رہی ہے لہذا کل تک حریف کی صف میں شامل عرب بھی آج بصد ندامت ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں ۔سعودی عرب نے اپنے بیانات میں اصلاح کی ہے ۔بعض عرب ریاستوں کوایران اسلام کا سب سے بڑامرکز نظر آیا ہے اوریہ سب دیکھ کر امریکا، روس، فرانس، برطانیہ ، اسرائیل وعراق کادل ہول رہاہے ۔ تیسری دنیا کی بڑھتی ہوئی طاقت مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اس کا اعلان کررہی ہے ۔

صدر ضیاء الحق کا یہ اعتراف بھی انہیں کھٹک رہا ہے کہ ایران عراق جنگ میں عراق جارح ہے ،ہند و ایران کی بڑھتی ہوئی دوستی بھی انہیں کھٹک رہی ہے لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابیاں اب متاثرہونے والی نہیں ہیں ۔

آواز حق کی بلندی اس عظیم الشان عالمی انقلاب کا مژدہ سنا رہی ہے جو حق کی مکمل ضامن ہے ۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .