۴ تیر ۱۴۰۰ | Jun 25, 2021
مولانا نصرت علی جعفری

حوزہ/ رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے آج کے مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا اس میں شک وتردید کی گنجائش نہیں، اسرائیل اپنے  استمرار ی وجودکے لئے ترس کر رہ جائے گا اور ایک دن نابودی کے گھاٹ اتر کر رہے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید نصرت علی جعفری قم ایران نمائندہ دفتر ہندحضرت  ایہ اللہ العظمی جوادی املی نے روز قدس کی مناسبت سے کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول تھا ، قبلہ اول ہے اور قبلہ اول رہے گا؛  اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے، اسی پاک مسجد میں ہمارے آخری کو معراج ملی، اس میں انبیاء ورسولون نے آکر عبادت کی جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت موسی علیہ السلام ودیگر انبیاء، تو کیا ہم اس مقدس مقام سے نا امید ہوکر اسے اپنے ہاتھوں سے نکل جانے دیں؛  نہیں ہرگز نہیں،  بلکہ اس کو واپس لینے کی کوشش کریں۔

بیت المقدس کس ملک میں ہے؛

یہ فلسطین میں ہے جہاں انبیاء کی پناہ گاہ و روح عبادت اس سے وابستہ ہے یہ سر زمین آنحصرت صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی ہجرت کے 13 سال بعد فتح ہوئی، اسوقت مسیحی اس سر زمین پر رہتے تھے مسلمانوں نے فتح کرنے کے بعد اپنا قدم رکھتے ہوئے اس سر زمین پر کوئی قتل و غارت کو روا نہیں رکھا بلکہ ایلیا کے رہنے والے حضرات کے ساتھ صلح و آتشی کا پیغام دیکر کہا ہم لوگ ملکر رہیں ایک دوسرے کی مدد کریں کسی  کو حق نہیں ہے کہ کسی کی عبادت گاہوں؛ معبد، کلیسا کو خراب کرے ، مسلمانوں نے مسیحیون کے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ کیا کہ اسلام کو سب سے برتر اور سچا دین مان کر بغیر کسی دباؤ کے اسلام قبول اور مسلمان ہوگئے؛  ولڈ وار اول یعنی پہلی جنگ عظیم کے بعد جہان عثمانی حکومت کا دار و دورا تھا شکست فاش کا سامنا کرنے بعد کئی حصوں میں تقسیم  ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر تے چلے گئے اور یہی برطانیہ والے چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو کمروز بناکر آہستہ آہستہ اپنا غلام بنانے میں کامیاب ہوجائے اور ایسا ہوا بھی،   1918ءمیں انگریزوں نے مسلمانوں کی مدد کے بہانے، کہ ابھی آپ لوگ ضعیف و ناتوان ہو ، ملک کو چلانا بہت مشکل ہے،  میں سر پرستی اور مدد کرنے کےلئے خدمت میں حاضر ہوں؛  مسلمانوں نے اس کی چال بازی کو پہچانے بغیر اپنا ہمدرد سمجھ کر ملک کی باگ ڈور سونپنے میں لگ گئے دشمن نے موقعیت کا پورا فائدہ اٹھایا اور یہودیوں کو لاکر آباد کرنے میں لگ گئے  ، کچھ ہی سال گزرےھ تھے کہ جہاں یہودی کا وجود نہ تھا 2 فیصد کا اضافہ ہوگیا اور آہستہ آہستہ یہودیوں کو اس سر زمین پر آباد کرنے میں کامیاب بھی ہوئے اور ان کو بہت مضبوط ومحکم بھی کر دیا،  جب مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے  تو انکی کمزوری کا پورا فائدہ اٹھاتے  ہوئے  ازرائیل یعنی صیہونیوں کو قانونی طور پر تسلیم کرنے  اور کرانے میں موفق ہوگئے اور 1948 ء میں اس کو دوسری حکومت سے منوا بھی لیا؛  بس یہیں سے مسلمانوں کی پستی کا اندازہ ہونے لگا اور ان کی کمزوری روز بروز آشکار ہوتی چلی گئی ؛ مسلمانوں کے سمجھنے میں کافی دیر ہوگئی اور یہ غافل ہو کر رہ گئے،  وہیں یہودیوں کے ظلم و ستم سے 1،900 ایک ملین نوسو فلسطینی آوارہ وطن کر دیئے گئے، کچھ سالوں بعد  6 دن کی جنگ میں 4،10000 چارسو دس ہزار فلسطینی مسلمان پھر آوارگی کی زد پر آگئے ، اور دوسرے مسلمان عیش و نوش میں مدہوش رہے اور فلسطین کے ضعیف مسلمان کو بھول گئے،  جس سال اسرائیل کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا اعراب نے اس سال کو نکبت کا سال کہا،  برطانیہ نے امریکہ کی حمایت کے ساتھ دونوں اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے قدم آگے بڑھاتے ہوئے سر زمین  نوار غزہ  پٹی پر ایک یہودی نشیں شہر کی بنیاد ڈال دی اور 12 ہزار گھر بنوا کر 270 یہودیوں کو ادھرادھر سے لاکر بسانے میں کامیاب ہوگئے؛  کچھ عرصہ کے بعد مصر کے صدر  انور سادات سے ہاتھ ملاکر  ان کو لالچ دے کر کمپ ڈویڈ کی قرارداد کرنے میں کامیاب بھی ہوئے اور مسلمان حکمراں کو دھوکہ دیکر  ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لاکھڑا کردیا اپنی شاترانہ پالیسی ڈیل کرکے فلسطینیوں پر ظلم کرنا شروع کردیا اور آج تک ظلم و ستم کر رہے ہیں تو یاد رکھئے جو سر زمین ظلم و ستم سے حاصل کی جاتی ہے وہاں کے مظلوم عوام کی آہ و بکا سے جلد خراب ہوکر بھی رہتی ہے اور اب وہ دن دور نہیں کہ خدا وعدہ  بہت جلد پورا ہونے والا ہے۔

سورہ قصص آیت 5 میں ملاحظہ فرمائیں:  ونرید ان نمن علی اللذین استضفوا فی الارض و نجعلھم آئمہ و نجعلھم الوارثین ؛ انشاءاللہ ظلم و ستم کا ڈھانچہ کمزور ہوگیا ہے؛  معیشت دم توڑ رہی ہے بدحالی صیہونی حکومت پر چھا گئی ہے اور اب اس کی نابودی کے دن قریب ہیں  جیسا کہ رہبر کبیر انقلاب نے فرمایا تھا اسرائیلی حکومت کو صفحہ ہستی سے نابود ہوجانا چاہئے اس کا وجوددنیائے  انسانیت کے لئے ناسور ہے لہذا رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے آج کے مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا اس میں شک وتردید کی گنجائش نہیں، اسرائیل اپنے  استمرار ی وجودکے لئے ترس کر رہ جائے گا اور ایک دن نابودی کے گھاٹ اتر کر رہے گا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 16 =