۳ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 25, 2021
قدس

حوزہ/ جامعۃ الازہر (مصر) نے ایک جدید فلم نشر کر کے قدس شریف کے متعلق غاصب صہیونیوں کے جھوٹے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ اس فلم میں تاریخی شواہد سے ثابت کیا گیا ہے کہ قدس شریف قدیم زمانے سے عربوں سے متعلق ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،جامعۃ الازہر (مصر) نے تاریخی شواہد کے حوالے کے ساتھ ایک جدید فلم نشر کی ہے جس میں قدس شریف کے متعلق غاصب صہیونیوں کے دعووں کو جھوٹا ثابت کیا گیا ہے۔

اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ میلاد مسیح (علیہ السلام) سے 4000 قبل یبوسیوں نے شہر قدس شریف کی بنیاد رکھی تھی اور وہاں پر ایک خاص عربی تمدن کو رواج دیا۔ پس قدس شریف اپنے وجود اور تہذیب و تمدن کے اعتبار سے ایک عربی خطہ ہے۔ اس فلم کے مطابق "یبوس" عرب کنعانی قبائل کا ایک قبیلہ تھا جو جزیرہ نما عربستان (سعودی عرب) سے ہجرت کرکے فلسطین کی سرزمین میں آباد ہوئے تھے۔ وہ سب سے پہلے لوگ تھے جنہوں نے قدس شریف میں سکونت اختیار کی اور اس کا سنگ بنیاد رکھا۔

اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ شہر قدس کا پہلا نام شہر :یبوس" تھا (یعنی اس شہر کی بنیاد رکھنے والوں کے نام پر تھا)۔اس کے علاوہ "اورسالم" یعنی "شہر سالم" کے نام سے بھی یہ شہر معروف تھا۔ یہ نام ایک عربی کمانڈر کا تھا جو اس شہر کی تعمیر و ترقی پر ناظر تھا۔

اس فلم میں مزید دکھایا گیا ہے کہ شہر قدس کے تاریخی آثار اس کے عربی ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور ان آثار کا بارز ترین نمونہ "چشمہ سلوان" ہے یہ وہ کنواں ہے کہ جیسے یبوسیوں نے پانی کے سرچشمہ تک پہنچنے کے لئے کھودا تھا۔ اس کے علاوہ آثار قدیمہ کے ماہرین نے یبوسیوں کی بنائی ہوئی دیواروں اور دیگر چیزوں کو کشف کیا ہے جیسے "قلعہ یبوس" اور شہر قدس کے نزدیک مٹی سے بنی ہوئی اشیا جو میلاد مسیح (علیہ السلام) سے 25 سو سال پہلے کی ہیں۔

جامعۃ الازہر کی بنائی ہوئی اس فلم کے آخر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شہر قدس شریف،اس کے  آثار، اس کے پتھر، میناروں کے نمونے اور مکانات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر عربی شہر ہے اور ملت فلسطین کا قدیم الایام سے مسکن رہا ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 7 =