۲۸ خرداد ۱۴۰۰ | Jun 18, 2021
گورکھناتھ مندر

حوزہ/ اترپردیش میں گورکھپور کے تاریخی گورکھناتھ مندر کے آس پاس رہنے والے مسلمانوں پر مقامی انتظامیہ کی جانب سے مکان خالی کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اتر پردیش میں گورکھپور کے تاریخی گورکھناتھ مندر کے آس پاس رہنے والے مسلمانوں پر مقامی انتظامیہ کی جانب سے مکان خالی کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ مندر کے آس پاس لگ بھگ درجن بھر مسلمانوں کے قدیمی مکانات ہیں۔ مسلمانوں کو ایک ایسے راضی نامے پر دستخظ کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے جس میں یہ تحریر ہےکہ دستخط کرنے والا شخص رضا مندی سے اپنی زمین یا گھر حکومت کے حوالے کررہا ہے تاکہ مندر کے احاطے کی حفاظت کو یقینی بنائی جاسکے۔راضی نامے میں یہ بھی تحریر ہے کہ ہمیں اس راضی نامے پر کوئی اعتراض نہیں جس کے بعد ہی ہم نے اس پر دستخط کیے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کئی مسلمان اجازت ناموں پر دستخط بھی کرچکے ہیں لیکن اب انکو پچھتاوا ہورہا ہے اور انکا کہنا ہیکہ وہ اپنے گھر خالی نہیں کریں گے۔ اکہتر سالہ جاوید اختر مندر سے چند میٹر دور ہی اپنے دو منزلہ مکان میں رہتے ہیں۔ وہ ریلوے سے انجینئر کے عہدے سے ریٹائر ہوچکے ہیں ۔انکا کہنا ہیکہ انکا مکان سو برس پرانا ہے۔ جاوید اختر نے بتایا کہ حال ہی میں پولیس اور مقامی حکام انکے یہاں آئے اور انکےگھر اور آس پاس کی پیمائش کرنے لگے۔اگلے روز ان سے راضی نامے پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔ جاوید اختر کے مطابق حکام نے ان سے کہا کہ انکے پاس دستخط کرانے کے اور بھی طریقے ہیں۔

52 ایکڑ میں پھیلے گیارہویں صدی کے اس مندر کے مہنت وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہیں۔ یہ مندر گرو گورکھناتھ نے قاٗم کیا تھا۔ کہا جاتا ہیکہ مندر کے لئے زمین نواب آصف الدولہ نے دی تھی۔ مندر کے نزدیک ہی ستر سالہ مشیر احمد بھی رہتے ہیں۔ مشیر احمد کے مطابق گزشتہ ستائیس مئی کو روینیو اور پولیس محکمے کے کچھ حکام انکے گھر آئے تھے اور گھر کی پیمائش کر کے لے گئے تھے۔ مشیر احمد نے بتایا کہ اگلے روز ان سےراضی نامے پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ہائپر ٹنشن اور ڈپریشن کے مریض ہیں۔ گھبراکر انہوں نے اپنا ایک سو پچیس سالہ مکان حکومت کے حوالے کرنے کے لئے راضی نامے پر دستخط کردئے۔ انتظار حسین کا مکان مندر کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔

انکا کہنا ہیکہ مقامی حکام نے ان سے زبانی طور سے مکان خالی کرنے کو کہا ہے۔ ان سے کہا گیا ہیکہ سیکورٹی کی بنا پر ان سے انکا مکان لیا جائےگا جسکا انہیں معاوضہ دیا جائےگا۔ دوسری طرف مقامی حکام کا اس معاملے میں کچھ اور ہی کہنا ہے۔ حکام کا کہنا ہیکہ زبردستی مکان خالی کرانے اور راضی ناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کرنے کی بات بے بنیاد ہے۔ ضلع مجسٹریٹ وجیندر پانڈین کا کہنا ہیکہ یہ لوگوں کی مرضی پر ہے کہ وہ اپنا مکان دیں یا نہ دیں۔ حکام کی جانب سے کسی پر دباؤ نہیں ڈالا جارہا ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 0 =