۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
حسین انصاریان

حوزہ / حوزہ علمیہ قم کے استاد نے کہا: جناب جابر جعفی امام محمد باقر علیہ السلام کے بے نظیر اصحاب میں سے تھے۔ انہوں نے امام علیہ السلام سے درخواست کی کہ اپنے علمی سمندر کا سب سے قیمتی جوہر اسے دکھائیں۔ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: "میرے علمی سمندر کا سب سے قیمتی جوہر عمل صالح ہے"۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حجۃ الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے حرم حضرت کریمہ اہل بیت علیہم السلام میں خطاب کرتے ہوئے کہا: دین خدا کا مطلب ایمان اور عمل صالح ہے۔ ایمان کے بغیر عمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ اس عمل کی اہمیت ہے جو پروردگار عالم سے تمسک کے ساتھ انجام دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا: جو شخص خدا، معاد، نبوت اور امامت کو نہیں مانتا تو اس کے عمل کی کوئی قیمت اور پاداش نہیں ہے اور جو اپنی استعداد کے مطابق خدا اور اصول دین کو مانتا تو ہے لیکن اہل عمل نہیں ہے تو اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے جیسے شیطان جو خدا، انبیاء اور معاد کو مانتا تھا لیکن کیونکہ اس کے پاس عمل صالح نہیں تھا اس لئے وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔

حجۃ الاسلام انصاریان نے مزید کہا: جناب جابر کہ جن کا شمار مکتب اہل بیت علیہم السلام کے بے نظیر چہروں میں سے ہوتا ہے۔ وہ ایک دن امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ "مولا! کسی چیز کی درخواست کر سکتا ہوں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: جی کر سکتے ہو۔ جابر نے عرض کی کہ "میں 16 سال سے آپ علیہ السلام کا خدمت گزار ہوں کیا مجھے اس کی اجرت ادا کریں گے؟"۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "اجرت ادا کروں گا لیکن آپ اپنی اجرت خود متعین کرو"۔ جابر کہتا ہے میں نے کہا: "آپ علیہ السلام کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باقرالعلوم کا لقب عطا کیا ہے یعنی تمام علوم آپ علیہ السلام کے پاس ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ علیہ السلام اپنے علمی سمندر میں سے سب سے قیمتی جوہر مجھے عطا کریں"۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "میرے علم کا قیمتی ترین جوہر یہ ہے کہ تم عمل صالح بجا لاؤ "۔

حجۃ الاسلام والمسلمین انصاریان نے کہا: جس کے پاس خدا ہے تمام دنیا و آخرت کے اس کے پاس ہے اور جس کے پاس خدا نہیں ہے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ دنیا اور اس کی حقیقی لذت ان افراد کے پاس ہے جو اہل عبادت اور عمل صالح بجا لاتے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .