۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
تصاویر/ نشست شورای سیاستگذاری هیئت هنر و رسانه با حجت الاسلام والمسلمین شیخ حسین انصاریان

حوزہ / دینی علوم کے استاد نے کہا:قیامت کے دن ہمارے پاس اپنے گناہوں کے متعلق کوئی عذر نہیں ہوگا اور ہم یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ کوئی ہمیں راہ راست پر لانے والا نہیں تھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے حرم حضرت فاطمہ معصومہ قم سلام اللہ علیہا میں خطاب کرتے ہوئے کہا: مومن کو اہل معرفت ہونا چاہیے کیونکہ بامعرفت انسان خدا شناس، پیغمبر شناس اور خود شناس ہوتا ہے اور خدا کے حلال و حرام سے آگاہ ہوتا ہے۔ اگر انسان با معرفت نہ ہو تو وہ مومن نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے مزید کہا: معرفت یا مطالعہ کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے یا امام محمد باقر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق علمائے ربانی کے ساتھ نشست و برخاست اٹھنے اور بیٹھنے سے حاصل ہوتی ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین انصاریان نے کہا: ہر زمانے میں علماء موجود ہیں اور وہ لوگوں کو دین کے خدا کے متعلق بتاتے ہیں تو اب لوگوں کے پاس قیامت کے دن کوئی عذر نہیں ہوگا کہ وہ کہیں کہ ہمیں سیدھا راستہ دکھانے والا کوئی نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک حجتِ خدا موجود ہے اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور اور قیامت تک موجود ہوگی۔

انہوں نے کہا: امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن تمام گناہ گار اور ناجائز خواہشات رکھنے والے جوانوں کو خدا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ان سے ان کے گناہوں کی وجہ پوچھی جائے گی تو وہ جواب دیں گے کہ ہم شہوات میں ڈوبے ہوئے تھے اور اپنے آپ کو گناہوں میں آلودہ ہونے سے نہیں بچا سکے۔ تو اس وقت حکم ہو گا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جوانوں کے سامنے لایا جائے۔ جب وہ جوانوں کے سامنے آئیں گے تو انہیں کہا جائے گا کہ یہ خوبصورت جوان ہے۔ اسے گناہ کرنے کے مواقع ملے۔ مصر کی خوبصورت جوان خاتون نے سات سال تک انہیں گناہ کی دعوت دی لیکن انہوں نے یہ دعوت قبول نہیں کی۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ انسان شہوات رکھنے کے باوجود گناہوں میں آلودہ نہ ہو اور یہی اتمام حجت ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین انصاریان نے کہا: قیامت کے دن اس قسم کی اتمام حجت بہت زیادہ ہوں گی۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اسی طرح قیامت کے دن جوان لڑکیوں کو لایا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے کیوں گناہ کیا؟ تو وہ جواب دیں گی کہ خدایا تو نے ہمیں جوانی اور خوبصورتی عطا کی تھی لہذا ہم گناہ میں مبتلا ہو گئیں۔ تو اس وقت خداوند متعال فرمائے گا: "حضرت مریم کو ان لڑکیوں کے سامنے لایا جائے"۔ جب حضرت مریم سلام اللہ علیہا ان کے سامنے آئیں گی تو کہا جائے گا کہ یہ بھی تو خوبصورت اور جوان خاتون تھیں اور یہ اس جگہ زندگی بسر کرتی تھیں کہ جہاں یہودی مرد اہل شہوت اور گناہ گار موجود تھے لیکن اس خاتون نے اپنے آپ کو گناہ میں آلودہ ہونے سے محفوظ رکھا۔ اس طرح قیامت کے دن لڑکیوں پر بھی حجت تمام ہوجائے گی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .