۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
شیخ حسین انصاریان

حوزہ / استاد حسین انصاریان نے کہا: اگر کوئی "حکیم" کے معنی و مفہوم کی گہرائی کو جانتا ہو اور خدا کی حکمت کے آثار کو سمجھتا ہو تو اس کے باطن کے خیالات پر کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے اندر آرام و سکون کا احساس کرتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے ایران کے شہر سمنان میں ماہ صفر کے پہلے عشرے کی آمد کے موقع پر منعقدہ مجلس عزاداری حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے کہا: قرآن کریم میں تقریباً ستانوے بار خداوندِ متعال کے بارے میں "حکیم" کا مفہوم ذکر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا: اگر کوئی "حکیم" کے معنی و مفہوم کی گہرائی کو درک کرتا ہو اور خدا کی حکمت کے آثار کو سمجھتا ہو تو اس کے باطن کے خیالات پر کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات، وسوسے اور اشکالات کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے اندر آرام و سکون محسوس کرتا ہے۔ اسے افعالِ الٰہی، نظامِ تخلیق یا اپنے وجود سے متعلق کوئی مسئلہ اور مشکل پیش نہیں آتی بلکہ وہ خداوند متعال کے مقدس وجود سے وہ پوری طرح راضی اور خوشنود ہو جاتا ہے۔

استاد حسین انصاریان نے کہا: قرآن کی بعض آیات میں خود رب کریم کے الفاظ ہیں، "وَاللَّهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ" جس میں خدا خود کو "حکیم" معرفی کر رہا ہے۔ پس جب میں یہ جان لیتا ہوں کہ میرا رب "حکیم" ہے تو پھر مجھے اس کی ذات، افعال، صفات اور اس کے باقی امور میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے دلائل کے ساتھ لشکرِ ابن زیاد کے سامنے اتمامِ حجت کی، انہوں نے اپنے آپ کو، اپنی امامت کو، اپنی عصمت کو، اپنے علم کو اور اسی طرح اپنی مظلومیت کا تعارف کرایا اور پھر اس کے بعد اٹھارہ ہزار خطوط کو باہر پھینک کر فرمایا: ان اٹھارہ ہزار خطوط میں تم سب کے دستخط موجود ہیں، تم نے خود مجھے دعوت کر کے یہاں بلایا ہے تو اب تم مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: "إِنّا نَقْتُلُکَ بُغْضاً لاَِبِیکَ" یعنی ہم آپ کو آپ کے والد کے ساتھ بغض کی وجہ سے مارنا چاہتے ہیں۔ تو یہ سب کچھ برین واشنگ کا نتیجہ تھا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .