۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
سویرا بتول

حوزہ/ اِس تحریک سے داخلی طاغوتوں اور سرکشوں کے خلاف قیام کرنے کا سبق بھی ملتا ہے اور خارجی دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑنے کا جذبہ بھی! وہ خون جو حسین ابنِ علی اور اُن کے اصحاب کی قربانی کی وجہ سے اُن کی گردنوں سے نکلا ہر تحریک کو عزت و جلال عطا کرتا ہے،جس کے ذریعے مومن اپنے حق، اپنے دین اور اپنی دنیا کے لیے قیام کرتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ادارہ التنزیل یوسفِ زہراء کی ثقافتی مسئول و فاطمیہ اسکاؤٹ کی منتظمین، معروف کالم نگار خواہر سویرا بتول نے تاریخِ امت میں عاشورا راہِ حق میں چلنے والی تحریکوں میں سب سے عظیم تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِس تحریک سے داخلی طاغوتوں اور سرکشوں کے خلاف قیام کرنے کا سبق بھی ملتا ہے اور خارجی دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑنے کا جذبہ بھی! وہ خون جو حسین ابنِ علی اور اُن کے اصحاب کی قربانی کی وجہ سے اُن کی گردنوں سے نکلا ہر تحریک کو عزت و جلال عطا کرتا ہے،جس کے ذریعے مومن اپنے حق، اپنے دین اور اپنی دنیا کے لیے قیام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا کے دو پہلو ہیں۔ایک طرف امام عالی مقام علیہ السلام کا کٹا ہوا بدن ہے اور دوسری طرف آپ کا ضاٸع شدہ حق۔اگر ہم امام حسین علیہ السلام کے کٹے ہوٸے بدن پر اِس لیےروٸیں تاکہ اپنی قوتِ ارادی کو ضائع شدہ حق کی واپسی کے لیے آمادہ کریں تو یہ درست ہے ورنہ بغیر معرفت کے گریہ و زاری کا کوٸی فاٸدہ نہیں۔بنی امیہ نے امام حسین علیہ السلام اور اِن کے اہلِ بیت کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھیڑیوں اور درندوں نے بھی کبھی لاشوں کے ساتھ نہیں کیا۔یہ حق ہے کہ جو لوگ اپنے دین سے منحرف ہوجاتے ہیں وہ ایسے ہی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں جن سے انسانیت کی پیشانی شرم سے جھک جاتی ہے۔  
دشمنی حیدرِ کرار کی روکے نہ رکی 
بدر کی آگ تھی جو کرب و بلا تک پہنچی

مزید کہا کہ کربلا میں دو پرچموں کا مقابلہ تھا۔حسینی پرچم جو کہ خداٸے رحمن کا عَلم اور پرچم ہے اور بنی امیہ کا پرچم جو شیطان کا پرچم ہے۔حسینی پرچم درحقيقت آدم علیہ السلام ، ابراہیم،موسی، عیسی، پیغمبرِ اسلامﷺ اور مولاٸےکاٸنات کا پرچم اور عَلم ہے جبکہ بنی امیہ کا پرچم قابیل،نمرود،فرعون،ہامان،ابوسفیان،اور امیرِ شام کا پرچم ہے۔امام عالی مقام نےیزید لعین کی ایک دن کی دن کے ایک لمحہ کے برابر بھی اطاعت کو قبول نہیں کیا۔جس طرح رسولِ اسلامﷺ نے ایک لمحہ کےلیے بھی بتوں کی پوجا کو قبول نہیں فرمایا ۔یزیدیوں نے شہداٸے کربلا کے بریدہ لاشوں کے ساتھ کربلا میں جو کچھ کیا یہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ شیطان اپنے اولیإ کو گناہوں کی کتنی پست ترین سطح تک لے جاتا ہے اور دنیا میں کس طرح اِنکو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔عاشور میں حقیقی قرآن اور دھوکہ دینے والے قرآن کے مابین مقابلہ ہوا۔رسولِ اسلام ﷺ کا دفاع کرنےاور رسول اللہ سے روگردانی کرنےوالوں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

سویرا بتول نے مزید بیان کرتے ہوئے کہا کہ یزیدوں نے امام عالی مقام علیہ السلام کے شیر خواروں پر پانی بند کیا،اہلِ بیت اطہار کے خیموں کو جلایا اور خانوادہ عصمت و طہارت کو اسیر کیا۔مگر آج پوری دنیا میں کربلا کے پیاسوں کی یاد میں جگہ جگہ سبیل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔آج پوری دنیا دیکھتی ہے کہ مومنین کروڑوں گھر بنا کر امام حسین اور انکےاہل بیت کے نام وقف کردیتے ہیں۔یہ ازل سے تاریخ کا حصہ رہا ہے کہ جب بھی اہلِ حق اور اہلِ باطل آمنے سامنے اپنے اپنے چہروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو ہر شخص مجبور ہوتا ہے کہ وہ جس صف سےتعلق رکھتا ہے اس صف میں شامل ہو، صادق اور سچا صادقین اور سچوں کے ساتھ کھڑا ہوگا، جھوٹا جھوٹوں کے ساتھ کھڑاہوگا۔اس طرح امام عالی مقام علیہ السلام کے مقابلے میں آنے والے منافقوں کے چہروں سے نقاب دور جاگرے گا۔اسی طرح آج بھی حسینی تحریک کی وجہ سے نفاق کا چہرہ عیاں ہورہا ہے ۔یہ جو آج عزاداری سید الشہدإ کے خلاف ہرزہ سراٸی کر رہے ہیں یہ درحقيقت اپنے اسلاف کی تاریخ پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں مگر آج بھی حسینی تحریک کی وجہ سے منافقوں کے چہروں سےحجاب  ہٹتے ہوٸے نظر آرہے ہیں اور حسینی تحریک روزِ قیامت تک منافقوں کو بے نقاب کرتی رہے گی۔

دشمنِ حیدر کرار خدا کا دشمن 
دشمنِ رب کا نبی ﷺ سے نہیں کوٸی بندھن 
ابنِ مرجانا ہو ملجم ہو یا شمرِ جوشن 
عرش و فرش پہ دوزخ کا یہی ہیں ایندھن 
لبِ قرآن سے اِن لوگوں پہ لعنت اتری 
اِن کی نسلوں میں علی سے نہ محبت اتری

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 5 =