۶ مهر ۱۴۰۰ |۲۰ صفر ۱۴۴۳ | Sep 28, 2021
تصاویر/ جشن ولادت امام هادی(ع) و تجلیل از خبرنگاران و رسانه های برتر ماه دهم در موسسه امام هادی

حوزہ/افسوس کی بات ہے کہ سازشیں کام کررہی ہیں اور شیعیت میں شگاف ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے اور ولایت و شیعیت کے نام پر لوگوں کو بہکایا اور دین میں بدعت ایجاد کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،آیت الله محمدجواد فاضل لنکرانی عضو جامعۂ مدرسین حوزه علمیه قم نے امام علی النقی علیہ السلام کی یوم پیدائش کی یاد میں تقریب سے خطاب کیا ، جس کا اہتمام مؤسسه پیام امام هادی(ع) نے کیا تھا، انہوں نے اپنی تقریر میں کہا، اس علمی اور تحقیقی موسسہ کا وجود وہ بھی بابرکت تیس سال سے وجود جس کا کوئی نظیر اور ثانی نہیں ہے آج علمی اور مذہبی طبقہ اس کے اثرات اور برکتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

 رئیس مرکز فقهی ائمه اطهار(ع) نے امام ہادی (ع) کے زمانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، امام ہادی (ع) کے زمانے میں ظالم عباسی خلفاء اقتدار میں تھے، اس زمانے میں مختلف اور الگ الگ قسم کے فرقے اور دھارے سامنے آرہے تھے مختلف انحرافی اور جھوٹے مکاتب ابھر رہے تھے اور اس دوران ائمہ نے ان سب کا فکری مقابلہ کیا اور اسلام کو صحیح دھارے سے الگ نہیں ہونے دیا، امام علیہ السلام نے ۳۳سال قید خانے کی صعوبتیں برداشت کیں، یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جن پر تفصیل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے گرچہ کہ تھوڑا بہت کام ہوا ہے اور زمانے کے امام کے حالات کس چیز کا تقاضہ کرتے تھے اس پر تحقیق ہوئی ہے لیکن مزید بہتر ڈھنگ سے تحقیق کی ضرورت ہے اور عصر مرسل اعظم(ص) سے لے کر غیبت کبریٰ تک کے ماحول کو اچھے طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

  آیت اللہ فاضل لنکرانی نے مزید کہا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، اسلام آخری الہی دین کے طور پر پیش ہوا جب کہ پیغمبر اسلام(ص) کے بعد مسند حکومت پر تقویٰ سے بے بہرہ غیر دیندار،فاسق و فاجر بلکہ غیر مسلمان بھی مسلمان کے بھیس میں مسلمانوں کے ہر چھوٹے بڑے امور کے مالک بن بیٹھے اور جیسے چاہا اس کی نکیل کو گھسیٹا جس کے نتیجے میں میں ہم واقعۂ عاشورا کے شاہد ہیں۔

  حوزۂ علمیہ قم کے استاد نے کہا: دین اور اس کی حکمرانی ہر دور میں ، تاریخی اعتبار سے فاسق افراد کے ہاتھوں کا کھلونا بنتی آئی ہے جنہوں نے ائمہ ہدیی)ع) پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تاکہ لوگ صحیح رہبر و حکمراں کو پہچان نہ سکیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں پر محققوں کو تحقیق کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں کتابیں لکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

 اپنی تقریر کے آخر میں استاد نے کہا: بہر حال  امام هادی(ع) نے لوگوں کو زمانۂ غیبت کبریٰ کے لیے آمادہ کیا اور سب سے پہلے اپنے وکلاء اور پھر فقہاء سے سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو تیار کیا اور ایک پوری فضا تیار کی کہ لو زمانۂ غیبت میں حیران و پریشان نہ ہوں ان کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے فقہاء موجود ہیں جو ان کی صحیح رہنمائی کریں گے۔

  انہوں نے مزید کہا: فقہاء ائمہ کی خاص لطف و عنایت کے زیر سایہ ہیں، فقہاء کا سارا ہمّ و غمّ اور تلاش و جستجو لوگوں کو امام تک پہنچانا ہے نہ کہ اپنی طرف، امامِ معصوم(ع) ایسے فقیہ کو اپنا نمائندہ سمجھتے ہیں جو لوگوں کو معصوم کی طرف دعوت دے اپنی طرف دعوت نہ دے، اسی طریقے اور اسی مزاج کے حامل ہمارے دور کے عظیم مراجع تقلید بھی ہیں جو امام معصوم کی طرف بلاتے اور دعوت دیتے ہیں اور ان کی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ اور آشنا کرتے ہیں۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ سازشیں کام کررہی ہیں اور شیعیت میں شگاف ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے اور ولایت و شیعیت کے نام پر لوگوں کو بہکایا اور دین میں بدعت ایجاد کرنے کی کوشش ہورہی ہے، سرزمین پاکستان پر علی والوں میں ولایت اور شیعیت کے نام لیوا نماز میں اپنی طرف سے اضافے کی کوشش میں لگے ہیں اور فقہاء کے بتائے راستے سے ہٹ کر بدعت ایجاد کررہے ہیں اور شیعوں کے چہرے کو خراب کرتے ہوئے راہ امامت سے ہٹ کر انحراف کا شکار ہوگئے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 0 =