۳۰ اردیبهشت ۱۴۰۱ |۱۸ شوال ۱۴۴۳ | May 20, 2022
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

حوزہ/ علی مسجد جامعہ المنتظر میں خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس الشیعہ کے صدر کا کہنا تھا کہ انسان جب مصیبتوں میں گھر جاتا ہے تو سوائے اللہ کے اسے کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ مرض سے شفا بیرون ملک علاج سے نہیں بلکہ اللہ کو یاد کرنے سے ملتی ہے۔ علی مسجد جامعہ المنتظر لاہور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کہتا ہے کہ اللہ مشکلات سے نکالنے کے ایسے راستے پیدا کرتا ہے جو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ قرآن مجید نے بارہا تدبر و تفکر کی دعوت دی ہے۔ اللہ نے اپنے منوانے کیلئے بھی جبر کی بجائے غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ اہلِ ایمان میں تین صفات ضرور ہونی چاہیئں۔ مانگنے کی بجائے دینے والا ہو، متقی و پرہیزگار ہو، کسی کی اچھائی کا اعتراف کرے۔ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے۔ کوشش کرے اللہ کے دیئے مال میں سے اُس کی راہ میں خرچ کرے۔ کنجوسی نہایت مذموم صفت ہے کہ کسی کو کچھ نہ دے حتیٰ کہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں بھی کنجوسی سے کام لے۔ایسے لوگوں کا مال مرنے کے بعد یا تو ان کیلئے بے فائدہ ہو گا یا اگر اولاد نے غلط استعمال کیا تو ان کی بھی گرفت ہو گی۔ دوسری صفت میں تقویٰ ہر مصیبت سے بچاﺅ کا موجب ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان جب مصیبتوں میں گھر جاتا ہے تو سوائے اللہ کے اسے کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ مرض سے شفا بیرون ملک علاج سے نہیں بلکہ اللہ کو یاد کرنے سے ملتی ہے۔ علی مسجد جامعہ المنتظر لاہور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کہتا ہے کہ اللہ مشکلات سے نکالنے کے ایسے راستے پیدا کرتا ہے جو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ تیسری صفت پر عمل مشکل ہوتا ہے کہ آدمی اپنے مخالف کی اچھائی کا بھی اعتراف کرے، یہ ذرا مشکل کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن کے مطابق انسان کی خلقت بھی تکلیف میں ہوئی اور زندگی میں بھی تکالیف اور مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تکالیف اور سختیاں زندگی کا حصہ ہیں۔ مال، دولت اور اقتدار بھی زندگی میں پیش آنیوالی تلخیوں سے نجات نہیں دے سکتے۔ انسان دکھ، سکھ پر مشتمل چند روزہ زندگی میں اچھی صفات اپنائے تو اسی میں دنیا و آخرت کی نجات ہے۔

حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کے بھیجنے پر احسان نہیں جتلایا لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا اہلِ ایمان پر احسان جتلایا اور ان کی تعلیمات و تزکیہ کا ذکر کیا۔ جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام انبیاء سے افضل ہیں، اسی طرح ان کی امت کو بھی تمام امتوں سے افضل و بہتر ہونا چاہئے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا اب اس کی مرضی اچھائی کا راستہ اپنا کر شُکر گُزار بنے یا اسے ترک کر کے ناشُکرا بنے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 1 =