۸ خرداد ۱۴۰۳ |۲۰ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 28, 2024
جرار اکبرآبادی

حوزہ/شراب مدح علیؑ کیسے چھوڑ دوں واعظ،یہ مئے  وہ ہے کہ جو بچپن سے منہ لگی ہوئی ہے،چمک رہی ہے ابھی تک جو دست قراں میں،رکوع میں وہ انگوٹھی علی کی دی ہوئی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسیl

کلام: جرار اکبرآبادی

اذان عشق علیؑ میرے دل کی دی ہوئی ہے
مرے دماغ نے بیعت علیؑ کی، کی ہوئی ہے

شراب مدح علیؑ کیسے چھوڑ دوں واعظ
یہ مئے  وہ ہے کہ جو بچپن سے منہ لگی ہوئی ہے

چمک رہی ہے ابھی تک جو دست قراں میں
رکوع میں وہ انگوٹھی علی کی دی ہوئی ہے

مزه حیات کا جنت میں آئے گا ہم کو
یہ زندگی تو غم شہؑ سے قرض لی ہوئی ہے

غم حسینؑ میں نم کیوں نہ ہوں مری آنکھیں
یہ جائیداد مرے نام وقف کی ہوئی ہے

در بتولؑ سے کرب و بلا تک آپہنچی
جو آگ خیمۂ شبیرؑ میں لگی ہوئی ہے

حسینؑ پوچھ رہے ہیں جواب دو اکبر
ہتھیلیوں میں یہ مہندی سی کیوں رچی ہوئی ہے

اسی سے پھیلی ہے دنیا میں روشنی جرّارؔ
جو شمْع، خیمۂ شبّیرؑ میں بجھی ہوئی ہے
یہ زندگی تو غم شہؑ سے قرض لی ہوئی ہے،جرار اکبرآبادی

تبصرہ ارسال

You are replying to: .