۶ مهر ۱۴۰۰ |۲۰ صفر ۱۴۴۳ | Sep 28, 2021
علامہ تقی عباس رضوی

حوزہ/ مدت مدید سے سرزمین پاکستان میں شیعہ علماء و دانشور، فعال و سرگرم دینی اور سماجی شخصیات کےخلاف موجودہ حکومتِ پاکستان کا یہ رویہّ انتہائی افسوس ناک، باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی، نائب صدر اہل بیتؑ فاؤنڈیشن نے اپنے ایک بیان میں معروف خطیب و شیعہ عالم دین علامہ شہنشاہ نقوی کی اسلام آباد میں بے خطا گرفتاری پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مدت مدید سے سرزمین پاکستان میں شیعہ علماء و دانشور ، فعال و سرگرم دینی اور سماجی شخصیات کےخلاف موجودہ حکومتِ پاکستان کا یہ رویہّ انتہائی افسوس ناک، باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔ 

انہوں نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ البتہ بے جرم و  خطا گرفتار ہونے والے رہنما علامہ شہنشاہ نقوی کو رہا کردیا گیا ہے مگر! آنے والے دنوں میں یہ گرفتاری حکومت وقت اور اس کی کھلی چھوٹ اور شہ پر ملک خداداد میں مسلمانوں کے مابین فرقہ وارانہ جھگڑوں، فسادات و خونریزی  کو جنم دینے اور قصبوں اور شہروں میں مسلکی تعصب کی چنگاری بھڑکا نے والے ملک دشمن طاقتوں کے آلہ کار انتہا پسندوں کو عنقریب بہت بھاری پڑے گی۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کون نہیں جانتا ہے کہ اہلِبیتؑ سے محبت وعقیدت عالم اسلام بالخصوص شیعہ اور سنی کا نہایت اہم سرمایہ ہے جس کے تحفظ میں جان جاتی ہے تو جائے ذکر اہل بیت ؑ،یادِ اہل بیتؑ اور دامنِ اہل بیتؑ ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے یہی شیعہ اور سنی کا ایمان اورعقیدہ ہے جسے دشمنان اہل بیت اطہار ؑ جرم قرار دیتے ہوئے انہیں قتل و اسیر کرتے ہیں  کہ شیعوں کے یہاں اہل بیت ؑ اور ان کے در سے منسلک شخصیات سے ہٹ کر کسی بھی فردکی  نہ کوئی شان و منزلت ہے اور نہ ہی کوئی قیمت ہے۔یہی حق اور سچ ہے۔

مزید کہا کہ شیعہ دشمنی، تکفیر اور شیعہ نسل کشی کی تاریخ کوئی نئی نہیں بہت پرانی ہے ہر دور میں ظالم و جابر آمر شدت پسندوں کے ہاتھوں شیعوں کے قتل عام اور لوٹ مار کی مہمات جاری رہی ہے ۔

اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ موجودہ دور میں لوگ  اپنی جان و مال کو محمد و آل محمد علیہم السلام کے نام پر نچھاور کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کررہے ہیں جس میں پاکستان ... کی شیعہ برادری صف اول میں کھڑی نظر آتی ہے اور ملک خدا داد پاکستان میں بنی امیہ کے نمک خوار اور ابن مرجانہ کی اولادوں کو قتل و اسیر ہوہوکر حق و صداقت اور عدم تشدد کے راستے پر چلنے کا جو پیغام دیتی ہے وہ عالم اسلام کے کے لئے قابل غور و رشک ہے ۔

مولانا تقی عباس نے کہا کہ حکومت پاکستان اور اس ملک کے منصف مزاج علما و دانشوروں کو چاہئیے کہ ملک خداداد میں مسلکی فتنہ بپا کرنے والی،ایک دوسرے پر ہرزہ سرائی کرنے والی ، جھوٹے فتوے لگانے والی ، شرانگیزی کرنے والی تحریک و تنظیم اور  شدت پسند خارجی و ناصبی عناصر پر بلا تاخیر قدغن لگاکر ملک میں امن و امان کی بحالی کو بہر صورت یقینی بنائے اور ملک میں پھیلی یزیدیت کی تاریکیوں کو مٹانے کے لئے ملک بھرمیں ذکر حسین علیہ السلام  کی ضیاؤں کو بڑھائے، اس ذکر پر پابندی عائد کرنے کے بجائے اسے فروغ دے اس لئے کہ یہ ذکرو فکر حق و باطل کا امتیاز دیتی  اورہمت و  حوصلوں کا رزق بانٹتی ہے اس ذکر سے لوگوں کو بلا تفریق مذہب و ملت ہدایت و سعادت حاصل ہوتی ہے، اس  ذکر سے درس عزت و افتخار حاصل ہوتا ہے یہ ذکر مسلمانوں کے ایمان میں استحکام کا باعث ہے اس سے مظلوموں سے ہمدردی و محبت میں مضبوطی نصیب ہوتی ہے اس ذکر سے ظلم اور ظالم سے نفرت پیدا ہوتی ہے یہی وہ ذکر ہے جس سے دین و ایمان کو زندگی اور تازگی نصیب ہوتی ہے۔اس کا دشمن ملک اور انسانیت کا دشمن ہے جس پر شکنجہ کشی وقت کی اہم ضرورتوں میں سے ہے۔

حق بات پہ کر دو گے جو پابندِ "سَلاسِل"
زنجیر کی جھنکار سے....تقریر کریں گے
تم دیکھنا اِک دِن یہ فلک بوس عمارات
کردار کے بَل بوتے پہ تسخیر کریں گے

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 14 =

تبصرے

  • انیس احمد جلالی IN 18:17 - 2021/09/14
    0 0
    مولانا محترم سلام مجھے لگتا ہے یہ آج کی بات نہی کہ علامہ شہنشاہ قبلہ کو خطاوار کہا گیا جو کہ افسوس کی بات ہے دیکھا جاۓ تو اسلام کی تاوریخ بھری پڑی ہے ll ۔