۹ آذر ۱۴۰۰ |۲۴ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 30, 2021
جناب محسن پاک آئين

حوزہ/ ایران کے سابق سفارتکار جناب محسن پاک آئين کے تحریر کردہ ایک مقالے میں ایران کی شمال مغربی سرحدوں پر جاری مسائل کا جائزہ۔

تجزیہ نگار: جناب محسن پاک آئين

حوزہ نیوز ایجنسیمسلح فورسز کی اکادمیوں کے ‏کیڈٹس کے گریجویشن کی مشترکہ تقریب میں سپریم کمانڈر کے بیان کی اہمیت اور اسی طرح 'فاتحان خیبر' فوجی مشقیں انجام دیے جانے کے اسباب کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے قفقاز کے علاقے میں پچھلے ایک سال میں رونما ہونے والے واقعات پر ایک سرسری نظر ڈالنی ہوگی۔ پچھلے سال قرہ باغ میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان چوالیس روزہ جنگ کے بعد روس کی وساطت سے ان دو ملکوں کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا جس کے نتیجے میں، آذربائيجان کے سات شہر جو آرمینیا کے قبضے میں تھے، آزاد ہو گئے اور طے پایا کہ خانکندی شہر کی مرکزیت کے ساتھ قرہ باغ میں اقتدار اعلی کا مسئلہ بھی آگے چل کر مذاکرات کے ذریعے اور اصول و قوانین کے تناظر میں حل کیا جائے گا۔

مذکورہ سمجھوتے کی نویں شق کے مطابق آذربائيجان، نخجوان کو اپنی سرزمین سے جوڑنے کے لیے ایک کوریڈور بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ 'زنگ زور' کی تعمیر کا واضح مطلب، ایران کی شمال مغربی سرحدوں پر جیو پولیٹکل تبدیلی پیدا کرنا تھا۔ قرہ باغ تنازعے کے طول پکڑنے اور اسی طرح ایران اور آرمینیا کی مشترکہ سرحدوں سے گزرنے والے اس ٹرانزٹ روڈ کی تعمیر پر، جو باکو کو نخجوان سے جوڑتا، آذربائیجان اور بعض دیگر ممالک کے اصرار سے ان دو ملکوں کی سرحدوں میں تبدیلی کے سلسلے میں ایک خفیہ سازش کا اشارہ ملنے لگا۔ جنگ بندی کے سمجھوتے کے مطابق باکو اور یریوان کے سپاہیوں کو پیش قدمی سے گریز کرنا تھا لیکن پچھلے مہینوں میں آذربائيجان نے متنازعہ علاقوں میں پیش قدمی اور سمجھوتے کی خلاف ورزی کی۔ ان اختلافات کو جاری رکھتے ہوئے رواں سال کے اگست مہینے کے اواخر میں آذربائیجان کے فوجیوں نے آرمینیا کے جنوب سے شمال کی طرف جانے والی شاہراہ کے ایک حصے کو بند کر دیا، جس کی وجہ سے ایران سے اشیاء لے کر جانے والے ٹرک، جو آرمینیا میں داخل ہو چکے تھے، وہیں پھنس گئے اور اس سے دونوں ملکوں کی زمینی تجارت کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہو گئي۔

دوسری جانب اس طرح کے کوریڈور کی تعمیر، قرہ باغ کے تنازعات سے فائدہ اٹھانے والے بعض ملکوں کے ٹرانزٹ راستے کو، آرمینیا یا ایران کی زمینی سرحدوں کو عبور کیے بغیر براہ راست آذربائیجان، بحیرۂ خزر کے ساحلوں اور اس کے بعد وسطی ایشیا کے ممالک تک کھول دے گی۔ اس قدم کے نتیجے میں آرمینیا کے ساتھ ایران کی زمینی سرحد حذف ہو جائے گي اور ایران کو اس کے شمالی مغرب میں نقل و حمل کے اہم بین الاقوامی ٹرانزٹ راستے سے کنارے لگا دیا جائے گا۔ ان ساری باتوں کے پیش نظر ایران کی شمال مغربی سرحدوں پر فاتحان خیبر فوجی مشق کے انعقاد کا ایک مقصد، مہم جوئی کی کوشش کرنے والی ان علاقائي اور بیرونی طاقتوں  کو ایک واضح اور دانشمندانہ پیغام دینا تھا جو اسلامی جمہوریہ ایران کے جیو پولیٹکل کردار کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ اصولی موقف اختیاری کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک کی ارضی سالمیت کی حمایت کی ہے اور وہ جغرافیائي سرحدوں میں ایسی تبدیلی کا مخالف رہا ہے جس کا ملکوں کے اقتدار اعلی سے براہ راست تعلق ہو۔ ایران کا ماننا ہے کہ عالمی سرحدوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی، ملکوں کے درمیان نئے تنازعات شروع ہونے پر منتج ہوگی اور یہ چیز علاقے میں خطے سے باہر کے عناصر اور دہشت گرد گروہوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی راہ ہموار کرے گي۔ رہبر انقلاب اسلامی نے گزشتہ سال آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ہوئي جھڑپوں کے بارے میں کہا تھا: "دونوں فریق، ملکوں کی عالمی سرحدوں کے خلاف جارحیت نہ کریں، عالمی سرحدیں محفوظ رہنی چاہیے اور ہماری سرحدوں کے قریب دہشت گردوں کے اڈے نہیں ہونے چاہیے۔" (3 نومبر 2020)  انھوں نے اسی طرح مسلح فورسز کی اکادمیوں کے ‏کیڈٹس کے گریجویشن کی مشترکہ تقریب میں ملکوں کی معاشی ترقی میں سیکورٹی کے براہ راست کردار کی طرف اشارہ کیا اور اسے کسی بھی ملک کی تمام معاشی، عملی و سائنسی، صحت و سلامتی،  سیاسی سرگرمیوں اور خدمت رسانی کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا۔

آج پرامن ماحول میں ہی ملکوں کی معیشت پیشرفت کر کے مضبوط بن سکتی ہے۔ بدامنی، علاقائي ملکوں سے سرمائے کے فرار اور معاشی جمود کا سبب بنے گي۔ اسی لیے مختلف ممالک، اپنی معاشی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں۔ علاقائي سلامتی کی حفاظت کے لیے ایک مناسب تدبیر، علاقائي افواج کی طاقت پر توجہ اور اغیار اور خطے سے باہر کی طاقتوں پر انحصار کا خاتمہ ہے۔ یہ وہ بات ہے جس کی طرف رہبر انقلاب اسلامی نے بھی اپنے بیان میں اشارہ کیا۔ انھوں نے کہا: "ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ خود ہمارے علاقے میں امریکی فوج سمیت اغیار کی فوجوں کی موجودگي، تباہی اور جنگ بھڑکنے کا سبب ہے؛ سبھی کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی فوجوں کو خود مختار، اپنی قوم پر منحصر اور ہمسایہ فوجوں اور خطے کی دیگر فوجوں کے ساتھ تعاون کرنے والی بنائيں۔ اس خطے کی بھلائی اسی میں ہے۔ ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ اغیار کی فوجیں، اپنے قومی مفادات کی تکمیل کے لیے، جن کا ان کی اقوام سے کوئي تعلق نہیں ہے، ہزاروں میل دور سے آئيں اور ان ممالک میں مداخلت کریں، یہاں ان کی فوجی موجودگي ہو اور وہ ان کی فوجوں میں مداخلت کریں۔ خطے کی ان اقوام کی فوجیں، خود ہی اس علاقے کو کنٹرول کر سکتی ہیں لہذا دوسروں کو یہاں آنے کی اجازت نہ دیجیے۔ یہ واقعات جو ہمارے ملک کے شمال مغرب میں بعض ہمسایہ ممالک میں رونما ہو رہے ہیں، انھیں بھی اسی سوچ اور اسی منطق سے حل کیا جانا چاہیے۔ البتہ ہمارا ملک اور ہماری مسلح فورسز دانشمندی کے ساتھ عمل کرتی ہیں؛ تمام مسائل میں طریقہ اور روش، دانشمندی کا ہی ہے؛ دانشمندی کے ساتھ طاقت۔ دوسروں کے لیے بھی بہتر ہے کہ دانشمندی کے ساتھ کام کریں اور خطے کو کسی مشکل میں نہ پڑنے دیں۔" (3 اکتوبر 2021)

اس بیان کا ایران کے ہمسایہ ممالک کے لیے ایک پیغام تھا اور ساتھ ہی جنگ بھڑکانے والے ممالک کے لیے بھی ایک پیغام تھا، جن کی اس خطے میں برسوں سے جاری موجودگي کا، تباہی اور بدامنی میں اضافے کے علاوہ اور کوئي نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ ایران کے پڑوسی ممالک، اپنی عوامی مسلح فورسز پر بھروسہ کر کے اور دیگر ہمسایہ ممالک کی افواج سے رابطے میں رہ کر، اغیار کی موجودگی کے بغیر ہی اپنی اور خطے کی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کی مسلح فورسز، ہمیشہ طاقت اور دانشمندی کے ساتھ کام کرتی ہیں اور یہ دانشمندی دوسرے ملکوں کے لیے بھی آئيڈیل اور مسائل کے حل کا عنصر ہونا چاہیے۔ البتہ رہبر انقلاب اسلامی نے خطے کے بعض ملکوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھیں ایک خیر خواہانہ اور ہمدردانہ نصیحت بھی کی اور کہا: "جو لوگ اپنے بھائيوں کے لیے گڑھا کھودتے ہیں، وہ خود پہلے اس گڑھے میں گرتے ہیں: مَنْ حَفَرَ بِئْراً لِأَخِیهِ وَقَعَ فِیهَا۔" (3 اکتوبر 2021)

اسی طرح آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کے بیان میں خطے میں مداخلت کرنے والی اور مہم جوئی کرنے والی طاقتوں کے لیے ایک مضبوط پیغام تھا جس کی بنیاد پر ایران کبھی بھی خطے میں، خطے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا اور اس سلسلے میں ضروری وقت اور جگہ پر، مناسب تدابیر اختیار کرے گا۔ انھوں نے اس سلسلے میں افغانستان کی طویل موجودگي کے تباہ کن نتائج اور امریکا کے رویے پر یورپ کی تشویش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ملک کی سلامتی اغیار کے قبضے میں نہیں ہونی چاہیے؛ یہ بہت اہم چیز ہے۔ آج ہمارے عوام کے لیے اور ہمارے ملک کے لیے یہ ایک معمولی بات ہے کہ ملک کی سلامتی، اپنی ہی مسلح فورسز اور اس ملک کے فرزندوں کے قبضے میں ہے لیکن دنیا میں ہر جگہ ایسا نہیں ہے؛ حتی پیشرفتہ ممالک میں بھی۔ آپ نے دیکھا کہ حال ہی میں یورپ اور امریکا کے درمیان جو یہ توتو میں میں ہوئي اور یورپ والوں نے کہا کہ امریکا نے ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔... جو لوگ دوسروں پر تکیہ کرنے کے توہم میں پڑ کر یا دوسروں پر بھروسہ کر کے یہ سوچتے ہیں کہ وہ اپنی سیکورٹی کو یقینی بنا سکتے ہیں، انھیں جان لینا چاہیے کہ عنقریب ہی وہ اس کا خمیازہ بھگتیں گے۔ (3 اکتوبر 2021)

اسلامی جمہوریہ ایران ہر اس اقدام کا مخالف ہے جو خطے کی جیو پولیٹکل صورتحال یا ملکوں کی حکمرانی کی جغرافیائي حیثیت کو تبدیل کر دے۔ ایران شمال اور جنوب کو جوڑنے والے پل کی حیثیت سے اب بھی، بین الاقوامی سرحدوں کی حفاظت، نقل و حمل کی موجودہ تمام راہوں کے کھلے رہنے اور تجارتی راستوں کی سہولیات سے خطے کے تمام ممالک کے بہرہ مند ہونے کا حامی ہے۔

'فاتحان خیبر' فوجی مشق کا پیغام، ہمسایہ ممالک کی سلامتی کی حمایت اور خطے میں اغیار کی موجودگي کی مخالفت ہے اور جیسا کہ سپریم کمانڈر آيۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے  کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران اپنی شمال مغربی سرحدوں پر رونما ہونے والے واقعات کے سلسلے میں طاقت اور دانشمندی سے فیصلہ اور عمل کرے گا۔"

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 7 =