۲۳ تیر ۱۴۰۳ |۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 13, 2024
علمائے پاکستان

حوزہ/ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اہل تشیع افسران کی فہرستیں تیار کی گئیں اور پھر ان کو شیعہ افراد کیخلاف کارروائیوں کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ مذکورہ افسران کے انتخاب کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اگر شیعہ قوم کی جانب سے ردعمل آتا ہے، تو اس سے بھی شیعہ افسر ہی نشانہ بنیں اور شیعہ کو شیعوں سے ہی نقصان پہنچایا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پاکستان میں منظم منصوبے کے تحت اہل تشیع کو نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے انتہائی باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل کے لالچ میں سعودی ایماء پر حکومتِ پاکستان ایسی پالیسیاں نافذ کر رہی ہے، جن سے پاکستان میں اہل تشیع کیلئے مسائل پیدا کئے جائیں گے۔

سکیورٹی اداروں میں باقاعدہ ’’شیعہ ملیٹنٹ سیل‘‘ قائم کئے گئے ہیں، جن کا کام کسی بھی شیعہ کو اٹھا کر غائب کرنا، اسے تشدد کا نشانہ بنانا اور ہمسایہ ملک کے حوالے سے پاکستان میں دہشتگردی کروانے کا اعتراف کروانا شامل ہے۔ سی ٹی ڈی کے حکام اب تک سیکڑوں اہل تشیع کو بلا کر شامل تفتیش کرچکے ہیں۔ کسی بھی دوسرے اور تیسرے درجے کے شیعہ رہنماء کو سی ٹی ڈی تھانے بلایا جاتا ہے، اس سے تنظیمی سرگرمیوں، ایران کے ساتھ روابط اور پاکستان میں شیعہ جماعتوں کی مالی امداد کرنے والے مخیر حضرات کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے اور انہیں یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اس انویسٹی گیشن کے حوالے سے کسی کو بتایا تو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

ان سیلز میں جن پولیس افسران کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے، وہ بھی بالخصوص اہل تشیع ہی کو چنا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اہل تشیع افسران کی فہرستیں تیار کی گئیں اور پھر ان کو شیعہ افراد کے خلاف کارروائیوں کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ مذکورہ افسران کے انتخاب کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اگر شیعہ قوم کی جانب سے ردعمل آتا ہے، تو اس سے بھی شیعہ افسر ہی نشانہ بنیں اور شیعہ کو شیعوں سے ہی نقصان پہنچایا جائے۔

سعودی ایماء پر ہی تعلیمی نصاب میں سے اہلبیت اطہارؑ کے ابواب خارج کئے گئے ہیں، جبکہ بنو اُمیہ کی شخصیات کو معتبر بنا کر نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت، ایک کالعدم جماعت کے ایم پی اے معاویہ اعظم، وزیراعظم کے معاون خصوصی طاہر اشرفی اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالہیٰ سمیت مسلم لیگ قاف کے کچھ رہنماوں کو ٹاسک دیا گیا ہے۔ مذکورہ منصوبے پر عملدرآمد کیلئے وزیراعظم کے معاون خصوصی طاہر اشرفی کو اس ’’سعودی ونگ‘‘ کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ طاہر اشرفی کو یہ بھی ٹاسک دیا گیا ہے کہ اہل تشیع حلقوں میں جا کر ان کے عقائد کے مطابق باتیں کریں اور انہیں مطمئن رکھیں کہ حکومت ان کیساتھ ہے۔

طاہر اشرفی جب شیعہ حلقوں میں موجود ہوتے ہیں تو وہ شیعہ عقائد کے عین مطابق اور اہلبیت اطہارؑ کی شان بیان کرتے ہیں، جس سے اہل تشیع طاہر اشرفی سے خوش ہو جاتے ہیں، جبکہ حقیقی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ حافظ طاہر اشرفی پاکستانی حکومت کے اہم حلقوں میں سعودی ہدایت پر اثر و رسوخ بنا کر اپنے نجس ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں اور سادہ لوح شیعہ اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اسے شیعہ دوست سمجھ رہے ہیں۔

سعودی عرب پاکستان کو ناصبی ریاست بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، اس نجس منصوبے کی تکمیل کیلئے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور حکومت پاکستان ہر سعودی حکم کے سامنے سرتسلیم خم کئے جا رہی ہے۔ سعودی منصوبے کی تکمیل کیلئے پاکستان میں دیوبندی نظریات رکھنے والے صحافیوں اور کالم نگاروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جو منظم انداز میں ہمسایہ ملک ایران کیخلاف پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .