۵ خرداد ۱۴۰۱ |۲۴ شوال ۱۴۴۳ | May 26, 2022
شہید ضیا الدین رضوی

حوزہ/ شہید ضیا الدین رضوی کی گرانقدر خدمات اور ناقابل فراموش جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے لازم و ناگزیر ہے کہ ان کی سوچ‘ فکر اور جدوجہد کوآگے بڑھایا جائے اور دینی‘ سماجی ‘ علمی اور سیاسی میدانوں میں مثبت انداز فکر اپناکر عوام کے حقوق کی حصول کی جدوجہد کو تیز تر کیا جائے تاکہ ان کے مشن‘ ہدف اور مقصد کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے جید عالم دین اور گلگت بلتستان کی معروف اور متحرک مذہبی و سماجی شخصیت علامہ سید ضیاءالدین رضوی کی 17ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ شہید رضوی نے گلگت بلتستان کے عوام کی سیاسی ، سماجی،تعلیمی اوراقتصادی حقوق کے لئے بھر پور جدوجہد کی جو کہ سب کے لئے مشعل راہ ہے اور اسے آگے بڑھانے کے لئے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا ہے درپیش مسائل پر آغا ضیاءالدین رضوی کے مثبت اور تعمیری کردار کو کبھی فرامو ش نہیں کیا جاسکتا ملی پلیٹ فارم سے مربوط و منسلک رہ کر انہوں نے بے مثال خدمات انجام دیں جس کی بدولت گلگت بلتستان کے عوام میں نہ صرف ملی شعور بیدار ہو‘ محرومیت کا خاتمہ ہوا ا بلکہ باہمی وحدت و اتحاد اور اخوت و روداری کی فضا کو بھی فروغ حاصل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ملی پلیٹ فارم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ روز اول سے ہی اس نے ان پسماندہ اور محروم علاقوں کے آئینی و قانونی حقوق کی بات کی اور جماعت کے ہر اہم اجتماع اور اجلاس کے ایجنڈے پر سرفہرست جو مسئلہ رہا وہ ان علاقوں کی آئینی و قانونی حیثیت کا تعین اور عوام کے محرومی و پسماندگی کا خاتمہ ہے۔چنانچہ اس لازوال اور مسلسل جدوجہد نے حکومتوں کو ہماری آواز پر کان دھرنے پر مجبور کیا اور ان علاقوں کی تعمیر و ترقی اور حقوق کے حوالے سے پیش رفت ہوئی تاہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ ان کی خودمختاری کی خاطر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ شہید ضیا الدین رضوی کی گرانقدر خدمات اور ناقابل فراموش جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے لازم و ناگزیر ہے کہ ان کی سوچ‘ فکر اور جدوجہد کوآگے بڑھایا جائے اور دینی‘ سماجی ‘ علمی اور سیاسی میدانوں میں مثبت انداز فکر اپناکر عوام کے حقوق کی حصول کی جدوجہد کو تیز تر کیا جائے تاکہ ان کے مشن‘ ہدف اور مقصد کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 11 =