۶ تیر ۱۴۰۱ |۲۷ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 27, 2022
آمریکا در عراق

حوزہ/ عراقی سیاسی تجزیہ کار اور محقق حسن حردان نے کہا کہ عراق کی پیچیدہ صورتحال اور ملک میں امریکی مداخلت کے درمیان گہرا تعلق ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی سیاسی تجزیہ کار اور محقق حسن حردان نے کہا کہ عراق کی پیچیدہ صورتحال اور ملک میں امریکی مداخلت کے درمیان گہرا تعلق ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ 2019 سے، امریکی پالیسی کی خدمت کے لیے حالات کو تبدیل کرنے اور عراق کی صورت حال کو بدلنے کے لئے منصوبہ جاری ہے۔

حردان نے کہا کہ جسے عراق میں مزاحمتی تحریک اور انتفاضہ کہا جاتا تھا، اس کا بنیادی مقصد قبل از وقت انتخابات منعقد کر کے عراق پر امریکی قبضے کی اعلی پیمانے پر قومی مخالفت کو کمزور بنانا تھا۔

اس تجزیہ کار نے تاکید کی کہ انتخابی نتائج نے ان لوگوں کو تقویت بخشی جو امریکہ کی طرف مائل تھے، اور یہی مسئلہ عراق میں افراتفری کا سبب بنا، لیکن وہ اقتدار میں نہیں آ پائے۔

حسن حردان نے کہا کہ حکومت بنانے اور عراقی صدر کے انتخاب کا کوئی بھی حل سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے فریقین کے درمیان سمجھوتا ہونا ضروری ہے اور اسی سمجھوتے سے ہی حل ممکن ہے، لیکن امریکہ نے عراق کے بحران کے حل کو برباد کر دیا ہے۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ عراق کسی ایسے فیصلے پر پہنچے جو امریکہ کے مفاد میں نہ ہو بلکہ وہ عراق میں امریکہ اپنی بقاء اور موجودگی چاہتا ہے، اس لیے عراقی فضا اور اس کی پیچیدہ صورت حال کو امریکی مداخلت سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 3 =