۹ مهر ۱۴۰۱ |۵ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 1, 2022
تیز بارش سے لکھنو کے تاریخی آصفی امام باڑے کا ایک حصہ منہدم ہوا

حوزہ/ تیز بارش کے سبب دنیا کا سب سے بڑا اور شہرہ آفاق آصفی امام باڑہ کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ/ تیز بارش کے سبب دنیا کا سب سے بڑا اور شہرہ آفاق آصفی امام باڑہ کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔

اودھ کی مشہور عمارتوں میں سے ایک شہنشاہ اودھ آصف الدولہ مرحوم کا تعمیر کردہ حسینیہ آصفی ہے۔ جس کی وسعت اور خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ پورے سال دنیا کے مختلف ممالک سے زائرین اور سیاح یہاں آتے ہیں اور کروڑوں روپئے کی ماہانہ آمدنی ہے لیکن محکمہ آثار قدیمہ اور وقف حسین آباد مبارک نے اس کی طرف سے لا پرواہی جاری رکھی ہوئی ہے۔ وقف حسین آباد نے آصفی امام باڑے کی بھول بھلیاں اور باولی کو صرف آمدنی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ چونکہ وقف حسین آباد کے انتظامی امور کی ذمہ داری لکھنؤ کے ڈی ایم کی ہے اس لئے سرکاری دخل کی وجہ سے یہاں صرف لا پرواہی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے حتی کہ آر ٹی آئی سے بھی یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ صورتحال کیا ہے۔ آمدنی، حدود اربعہ اور اخراجات کو عوام سے مخفی رکھا جاتا ہے۔

حسینیہ آصفی کے ایک حصہ کے انہدام کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ مولانا یعسوب عباس نے اس سلسلہ میں ڈی ایم سے ملاقات کی اور حسینیہ آصفی پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔ڈی ایم لکھنو نے بھروسہ دلایا کہ جلد ہی منہدم حصہ کو تعمیر کیا جائے گا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 3 =