۱۹ آذر ۱۴۰۱ |۱۶ جمادی‌الاول ۱۴۴۴ | Dec 10, 2022
عراق

حوزہ/ عراقی فوج سے وابستہ میڈیا گروپ "سیکورٹی میڈیا سیل" نے بغداد کے گرین زون میں چار راکٹ داغے جانے کی خبر دی ہے۔ اس میڈیا گروپ نے اعلان کیا کہ ان راکٹوں کے داغے جانے کے بعد ایک افسر اور تین نان کمیشنڈ اہلکار زخمی ہوئے اور اس علاقے میں پارلیمنٹ ممبر کی ایک گاڑی اور ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،عراق کے شہر بغداد میں صدر دھڑے کے حامی بدھ کی صبح دارالحکومت کے گرین زون کے سامنے جمع ہوئے، جنہوں نے شام کے وقت پارلیمانی اجلاس شروع ہونے کے موقع پر بغداد کے اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی جہاں انہیں سیکورٹی فورسز کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد صدر دھڑے کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں جن میں اب تک 133 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں 4 اعلیٰ پولیس افسروں سمیت 122 پولیس اہلکار اور 11 عام شہری شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صدر دھڑے کے حامی منگل کی رات سے ہی بغداد کے گرین زون کے اطراف کے علاقوں میں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے جبکہ سیکورٹی فورس نے التحریر اسکوائر کی طرف جانے والے تمام راستے بند کردیئے تھے۔ پارلیمانی اجلاس شروع ہونے کے موقع پر بغداد کے گرین زون کے اطراف کے علاقوں میں سیکورٹی فورس اور بلوہ کرنے والوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

دوسری جانب باخبر ذرائع نے بتایا ہے اب تک کہ 4 راکٹ بغداد کے گرین زون پر گرچکے ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق عراقی فوج سے وابستہ میڈیا گروپ "سیکورٹی میڈیا سیل" نے بغداد کے گرین زون میں چار راکٹ داغے جانے کی خبر دی ہے۔ اس میڈیا گروپ نے اعلان کیا کہ ان راکٹوں کے داغے جانے کے بعد ایک افسر اور تین نان کمیشنڈ اہلکار زخمی ہوئے اور اس علاقے میں پارلیمنٹ ممبر کی ایک گاڑی اور ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک راکٹ پارلیمنٹ کے احاطے میں گرا ہے، تاہم ابھی تک کسی فریق نے ان راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 1 =