۲۵ فروردین ۱۴۰۳ |۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 13, 2024
بینات ایجوکیشن سسٹم

حوزہ/ بینات ایجوکیشن سسٹم اور فاطمه ایجوکیشن سسٹم بلتستان پاکستان کے باہمی اشتراک سے یومِ ثقافت گلگت بلتستان کے موقع پر، ”قرآن ہی ہماری ثقافت ہے“ کے عنوان سے ایک اہم پروگرام منعقد ہوا، جس میں 25 اداروں کے 60 اساتذہ کو ثقافتی ایوارڈ اور قرآن دستور حیات کورس سے نوازا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بینات ایجوکیشن سسٹم اور فاطمه ایجوکیشن سسٹم بلتستان پاکستان کے باہمی اشتراک سے یومِ ثقافت گلگت بلتستان کے موقع پر قرآن ہی ہماری ثقافت ہے کے عنوان سے ایک اہم پروگرام منعقد ہوا، جس میں 25 اداروں کے 60 اساتذہ کو ثقافتی ایوارڈ اور قرآن دستور حیات کورس سے نواز گیا۔

معاشرہ کی کامیابی اور عروج میں قرآن کا بنیادی کردار ہے، آغا سید علی رضوی

پروگرام کی صدارت آغا سید علی رضوی نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی ڈپٹی ڈائریکٹر الزھراء کالج شیخ ذوالفقار علی عزیزی تھے۔

پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالنے ہوئے فاطمه ایجوکیشن سسٹم پاکستان کے ڈائریکٹر شیخ محمد جان حیدری نے کہا کہ 20 نومبر یومِ ثقافت گلگت بلتستان ہے، لہٰذا قرآن ہی ہماری ثقافت ہے اور قرآنی آئیڈیل سوسائٹی کا قیام ہماری منزل ہے۔ ثقافت کے نام پر جو ثقافتی یلغار ہو رہی ہے، اس سے ہماری ثقافت کا کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرمائی کھیل کے نام پر کینیڈا اور امریکہ کے سفیروں کی گائیڈ لائن پر مشتمل پروگرامات تشویشناک ہیں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سپورٹس گالا کے نام پر جو ناچ گانے میوزک کی محفلیں ہوتی ہیں قابلِ مذمت ہیں۔ ہم اسلام کے ماننے والے ہیں ہمارا طرز حیات اسلامی ہونا چاہیئے۔

معاشرہ کی کامیابی اور عروج میں قرآن کا بنیادی کردار ہے، آغا سید علی رضوی

پروگرام سے فاطمه ایجوکیشن سسٹم بلتستان کی ڈائریکٹر محترمہ کنول فاطمہ عشور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآنی معاشرہ کی تشکیل میں معلمات کا بنیادی کردار ہے۔
قرآنی سوسائٹی کے قیام اور ثقافت کے احیاء میں درپیش چیلنجوں اور مسائل سے آگاہی نہایت اہم ہے۔

صدر محفل آغا سید علی رضوی نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ معاشرہ کی کامیابی اور عروج میں قرآن کا بنیادی کردار ہے، لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ قرآنی تعلیمات اور اصولوں کو معاشرہ میں عام کریں اور قرآنی معاشرہ کی تشکیل میں ملکر کردار ادا کریں۔

پروگرام کے آخر میں، 60 قرآنی اور ثقافتی شعبوں میں سرگرم اساتذہ میں ایوارڈ اور انعامات تقسیم کئے گئے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .