۵ تیر ۱۴۰۳ |۱۸ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 25, 2024
رهبر معظم انقلاب در دیدار اعضای هیئت علمی پنجمین کنگره جهانی حضرت رضا علیه‌السلام

حوزہ/ رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے فرمایا: امام رضا اور باقی آئمہ (ع) کی زندگیوں کے تین پہلوؤں کو بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے یہ آپ منتظمین کا ہنر ہے کہ ان تینوں پہلوؤں کو نکالیں، دوسرا یہ کہ ان پہلوؤں کو من گھڑت باتوں سے خالص کریں اور تیسرا پہلو جو کہ سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ امام رضا اور دیگر آئمہ (ع) کی زندگی کے پہلوؤں کو شیعہ حتیٰ سنی مخاطبین کیلئے جدید اصطلاح اور قابلِ فہم اور سادہ زبان میں بیان کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای مدظلہ سے امام رضا (ع) بین الاقوامی کانفرنس کے منتظمین نے آج ملاقات کی اور اس دوران رہبرِ انقلابِ اسلامی نے اس عظیم کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور امام رضا علیہ السّلام اور دیگر آئمہ علیہم السّلام کے معنوی اور الٰہی کلمات اور درس اور سیاسی خدمات کے مختلف پہلوؤں کو مخاطبین کیلئے جدید اصطلاح میں اجاگر کرنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ غیر مسلم دنیا میں اکثر آئمہ (ع) ناشناختہ ہیں۔

معاشرے کی تشکیل کیلئے اقتدار اور حکومت ناگزیر ہے، رہبرِ انقلابِ اسلامی

رہبرِ انقلابِ اسلامی نے فرمایا کہ آئمہ علیہم السّلام کا بنیادی ہدف، اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا۔ اقتدار کے بغیر اسلامی معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای مدظلہ نے مزید فرمایا کہ بعض آئمہ علیہم السّلام کی زندگی کے بارے میں زیادہ گفتگو اور بحث ہوئی ہے، لیکن بعض آئمہ (ع) ابھی تک غیر معروف ہیں، امام حسن مجتبی، حضرت امام موسٰی کاظم اور حضرت امام جعفر صادق علیہم السلام کی عظمت سے دنیا ناواقف ہے۔ ان آئمہ کرام علیہم السّلام کے بارے میں بہت کم گفتگو کی جاتی ہے۔

رہبرِ انقلاب نے فرمایا کہ آئمہ علیہم السّلام کی زندگی کے تین پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے معنوی اور الٰہی پہلو ہے۔ بعض اوقات ان کے معنوی اور الٰہی پہلو کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے، لیکن بہت کم اور سرسری گفتگو ہوتی ہے، ہمیں اس حوالے سے تقیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جس طرح پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان ہستیوں کی عظمت کو بیان کیا ہے، ہمیں بھی اسی طرح بیان کرنا چاہیئے۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی نے سیاست کے مسئلے کو نیز اہم قرار دیا اور فرمایا کہ آئمہ علیہم السّلام کی زندگی کا دوسرا پہلو سیاسی پہلو ہے، یہ اہم پہلو ہے۔ ہمیں مطالعہ کرنا چاہیئے کہ ان ہستیوں نے حکومت کی تشکیل کے حوالے سے کیسی پالیسیاں اپنائیں۔ ان ہستیوں کی زندگی بامقصد تھی۔ اسلامی معاشرے کی تشکیل آئمہ کا بنیادی ہدف تھا۔ معاشرے کی تشکیل کیلئے اقتدار اور حکومت ضروری ہے، لہٰذا آئمہ علیہم السّلام اسلامی حکومت کی تشکیل کے خواہاں تھے۔

حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے امامت کے مسئلے پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آئمہ کرام علیہم السّلام کی زندگی کے اہم پہلوؤں میں سے ایک پہلو امامت کا ہے۔ امامت کا مطلب، دین اور دنیا میں رہنمائی کرنا۔ آئمہ علیہم السّلام لوگوں کی دینی اور دنیوی امور میں رہنمائی کرنا چاہتے تھے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .