حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کے دوران مدیر مدرسہ علمیہ نور الرضا (ع) حجت الاسلام والمسلمین واسطی نے کہا: ماہِ رمضان ایک ایسا قیمتی موقع ہے جو معنویت، دینی تبلیغ اور انسان و عالمِ ملکوت کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔
انہوں نے طلبگی کے مقام اور اسلامی معاشرے کی رہنمائی میں اس کے کردار کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا: قرآن کریم میں ہماری طلبگی کی ذمہ داری کی اصل بنیاد آیۂ شریفہ "آیۂ نفر" (وَمَا کانَ الْمُؤْمِنُونَ لِینفِرُوا کافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن کلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّیتَفَقَّهُوا فِی الدِّینِ وَلِینذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیهِمْ لَعَلَّهُمْ یحْذَرُونَ) ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین واسطی نے مزید کہا: آیۂ "نفر" میں دین کی سمجھ بوجھ کے سلسلہ میں "لِیَتَفَقَّهُوا" کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس دین شناسی کا نتیجہ "لِیُنذِرُوا" یعنی عوام کو خبردار کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے جبکہ "لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُونَ" کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ہدایت کے راستے پر لا کر انہیں خطرات سے بچایا جائے، حدود کا شعور دیا جائے اور برائیوں سے دور رکھا جائے۔
انہوں نے ماہِ رمضان کے روحانی ماحول اور اس کی مخصوص برکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جس طرح حج کے دوران لوگ ہدایتِ الٰہی سے زیادہ مستفید ہونے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں، اسی طرح ماہ مبارک رمضان میں بھی دینی معارف کو قبول کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
مدیر مدرسہ علمیہ نورالرضا(ع) نے انسانی فطرت کی بیداری اور عقل کی فعالیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: انسان فطری طور پر اچھے اور برے میں تمیز کرسکتا ہے لیکن نفسانی وسوسے اکثر اس شعور کو دھندلا دیتے ہیں۔ نفس کی کارستانیوں کے سبب اقدار الٹ جاتی ہیں، برائیاں خوشنما لگنے لگتی ہیں اور نیک اعمال غیر اہم محسوس ہوتے ہیں۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ درست تشخیص کو تقویت دے کر انسانوں کو ہدایت کے راستے پر واپس لایا جائے۔
انہوں نے اسلامی معاشرے کی رہنمائی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر زور دیتے ہوئے کہا: قرآن کریم میں دی گئی ہدایات دو پہلو رکھتی ہیں۔ یہ کہ نہ صرف نیک کاموں کی ترغیب دی جائے بلکہ انحرافات اور برائیوں کے نتائج سے بھی خبردار کیا جائے۔ امر بالمعروف کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلایا جائے، کبھی محبت اور نرمی سے اور کبھی شدت اور تاکید کے ساتھ، تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ واجبات کو ترک کرنا روحانی صحت اور عالمِ ملکوت سے تعلق کو متاثر کرتا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین واسطی نے طلبہ کی رمضان میں تبلیغی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا: اس مہینے میں لوگ دینی معارف سننے کے لیے زیادہ آمادہ ہوتے ہیں اور مذہبی خطابات اور پروگرامز پر خاص توجہ دی جاتی ہے لہٰذا ہمیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور کم از کم بنیادی دینی تعلیمات کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ