تحریر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی
حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت کی زندگی، متوازن خوراک، ورزش، اور روحانی و جسمانی معالجے کے اصولوں کا عملی نمونہ تھی۔ آپؑ نے صحت و معالجہ کے حوالے سے نہ صرف حکمت و معرفت سے بھرپور ارشادات فرمائے بلکہ خود بھی ایک مثالی طرزِ زندگی اپنائی۔ آپؑ کے اقوال اور طرزِ زندگی جدید طبی اصولوں سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔
علی علیہ السلام صحت اور تندرستی کی اہمیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں: "صحت ایک ایسی نعمت ہے جس کا صحیح اندازہ بیمار ہونے کے بعد ہوتا ہے۔"یہ مفہوم متعدد احادیث میں موجود ہے، مگر بعینہٖ یہ الفاظ کسی مستند کتاب میں نہیں ملتے۔ البتہ، حضرت علیؑ فرماتے ہیں:"العافيةُ نِعمةٌ خفِيَةٌ إذا وُجِدَت نُسِيَت وإذا فُقِدَت ذُكِرَت۔" یعنی: "عافیت (صحت) ایک چھپی ہوئی نعمت ہے، جب موجود ہو تو بھلا دی جاتی ہے، اور جب ختم ہو جائے تو یاد آتی ہے۔"(غرر الحکم، حدیث 9504)
متوازن خوراک اور غذائی اصول کے سلسلے میں ارشاد فرماتے ہیں: "زیادہ کھانے سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اعتدال صحت کا ضامن ہے۔"
حضرت علیؑ فرماتے ہیں: "إيّاكَ وَ كَثرَةَ الأكلِ، فإنَّهُ يَذهَبُ بِالنُّبْلِ، وَ يُبْطِئُ بِالفِطْنَةِ، وَ يُورِثُ الكَسَلَ۔"
یعنی: "زیادہ کھانے سے پرہیز کرو، کیونکہ یہ ذہانت کو زائل کر دیتا ہے، فہم و فراست کو سست کر دیتا ہے، اور سستی پیدا کرتا ہے۔"(غرر الحکم، حدیث 11132)
جو کی روٹی، کھجور، دودھ، سبزیوں اور شہد کے استعمال کے حوالے سے:حضرت علیؑ کی سادہ خوراک کے بارے میں ملتا ہے کہ آپ اکثر جو کی روٹی اور سرکہ کھاتے، اور آپؑ نے فرمایا: "جو کی روٹی معدے کے لیے مفید اور بیماریوں کو دور کرنے والی ہے۔" (بحار الأنوار، جلد 66، صفحہ 405)
آنحضرت پرہیز کو علاج سے بہتر ہے جانتے ہیں چنانچہ آپ نے فرمایا: "جسموں کی حفاظت کرو، کیونکہ یہی تمہاری سواری ہیں، اگر یہ تندرست رہے گی تو تمہیں تمہاری منزل تک پہنچا دے گی۔"
نیز حضرت فرماتے ہیں: "المعدة بيت الداء والحمية رأس الدواء"
یعنی: "معدہ بیماری کا گھر ہے اور پرہیز سب سے بہترین دوا ہے۔"(غرر الحکم، حدیث 8607)
آپ صحت کو برقرار رکھنے کے لیےجسمانی مشقت اور ورزش کو اہمت دیتے ہوے فرماتے ہیں: "محنت جسم کو قوت دیتی ہے اور سستی کمزوری پیدا کرتی ہے۔" "الكسل يضر بالدين والدنيا" یعنی: "سستی دین اور دنیا دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔"(غرر الحکم، حدیث 10248)
آپ بیماریوں کے علاج اور طبی اصول کے سلسلے میں ارشاد فرماتے ہیں: "ہر بیماری کی دوا موجود ہے، بس سمجھنے والے کی سمجھ اور پہچان کی ضرورت ہے۔" یہ مفہوم حدیثِ نبویؐ سے بھی ثابت ہے، جہاں رسول اکرمؐ نے فرمایا:"إن الله لم ينزل داءً إلا أنزل له شفاءً، علمه من علمه، وجهله من جهله۔"یعنی: "اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کا علاج بھی اتارا ہے، جس کو معلوم ہو گیا، ہو گیا، اور جو جاہل رہا، وہ جاہل رہا۔"(صحیح بخاری، حدیث 5678)
آنحضرت ذہنی اور روحانی صحت صحت اور بیماری پر روشنی ڈالتے ہو فرماتے ہیں: "حسد جسم کو کھا جاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔ "الحَسَدُ يَأكُلُ الإيمانَ كَما تَأكُلُ النّارُ الحَطَبَ"یعنی: "حسد ایمان کو اسی طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔" (نہج البلاغہ، حکمت 38) اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ حسد کا اثر انسان کے ذہن پر ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں جسم بھی متاثر ہوجاتا ہے۔
آپ نیند اور آرام کے اصول کو اس طرح بیان فرماتے ہیں: "زیادہ سونا عقل کو برباد کرتا ہے اور کم سونا جسم کو کمزور کر دیتا ہے۔ "كَثرةُ النَّومِ تَكسِلُ عنِ العِبادَةِ، و تُقَسِّي القَلبَ، و تُورِثُ الفَقرَ۔"یعنی: "زیادہ سونا عبادت سے سستی پیدا کرتا ہے، دل کو سخت بنا دیتا ہے، اور فقر (غربت) کو جنم دیتا ہے۔" (غرر الحکم، حدیث 10617)
حضرت علی علیہ السلام کے ان فرامین سے ظاہر ہوتاہے کہ حضرت علیؑ کی زندگی صحت، متوازن خوراک، جسمانی محنت، پرہیز، علاج اور روحانی سکون کے اصولوں پر مبنی تھی۔ اگر ہم ان اصولوں پر عمل کریں تو ایک صحت مند، خوشحال اور متحرک زندگی گزار سکتے ہیں۔
چنانچہ اچھی صحت، خوشحال زندگی اور بہتر معاشرہ ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں، کیونکہ صحت مند فرد ہی ایک کامیاب زندگی گزار سکتا ہے اور ایک مضبوط و ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے ہمیں زیادہ سے زیادہ حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ان کے ورث آخری حجت کے ظہور میں تعجیل فرمائے آمین والحمدللہ رب العالمین۔
آپ کا تبصرہ