قصرِ ابیض سے جو مانگ رہے ہو خیرات۔۔۔"مسلمانوں کا زوال"

حوزہ/ جب امت نے قرآن و عترت کی الٰہی و نبوی ہدایت کو ترک کر کے دنیا پرستی، گروہ بندی، اور استعماری طاقتوں کی پیروی کو شعار بنایا، تو قیادت اس کے ہاتھ سے چھن گئی، اور اس کے ساتھ عزت، وحدت، غیرت اور روحانی خودی بھی تحلیل ہوتی چلی گئی۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی | امتِ مسلمہ اس وقت تاریخ کے بدترین انحطاط اور ہمہ جہت زوال سے دوچار ہے۔ وہ امت جسے کبھی عدل و حکمت کی نمائندہ اور تہذیب و تمدن کی معمار تسلیم کیا جاتا تھا، آج سیاسی غلامی، معاشی محتاجی، فکری جمود اور تہذیبی استحصال کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ زوال کسی عارضی حادثے یا خارجی یلغار کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک طویل المدت فکری انحراف، روحانی بغاوت، اور نبوی وصیت سے روگردانی کا منطقی و ناگزیر انجام ہے۔

جب امت نے قرآن و عترت کی الٰہی و نبوی ہدایت کو ترک کر کے دنیا پرستی، گروہ بندی، اور استعماری طاقتوں کی پیروی کو شعار بنایا، تو قیادت اس کے ہاتھ سے چھن گئی، اور اس کے ساتھ عزت، وحدت، غیرت اور روحانی خودی بھی تحلیل ہوتی چلی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ “سقیفہ کی سیاست” کو اختیار کر کے امت نے جس وقت “امامتِ معصومین علیہم السلام” سے رشتہ منقطع کیا، اسی لمحے سے اس کا زوال شروع ہوا۔ یہی انحراف امت کو رسالت کے مرکزِ نور سے کاٹ کر طاغوتی نظاموں اور استعماری مفادات کے دروازے پر لا کھڑا کرتا ہے۔

جب تک امت اس اصل جرم — یعنی ولایتِ حقہ سے انحراف — کا شعوری ادراک نہیں کرتی اور سچے دل سے توبہ کر کے رسولؐ کی دی ہوئی وصیت کو مرکزِ اتحاد و ہدایت نہیں بناتی، اس وقت تک ذلت و محکومی اس کا مقدر، اور غلامی اس کا لازمی انجام رہے گا، خواہ وہ کتنے ہی عسکری، سیاسی یا سائنسی منصوبے اختیار کر لے۔

یہی وہ فکری مقدمہ ہے جس کی بنیاد پر ہمیں امت کے زوال کا عمیق تجزیہ کرنا ہے، تاکہ اس کے اسباب کو درست شناخت کے ساتھ سمجھا جا سکے اور اصلاح و احیاء کی شاہراہ متعین ہو۔

ابتدائے انحراف: وصیتِ رسولؐ کا انکار

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری ایام میں دی گئی وصیت — جو ہدایت، وحدت، اور امامت کا ضامن تھی — کا انکار دراصل نبوی حکمت سے انحراف اور وحیِ الٰہی کی روشنی سے اعراض تھا۔ “اِيتوني أكتب لكم كتاباً” جیسا عظیم پیغام، امت کے ایک گروہ کے تعصبات، سیاسی تمناؤں اور دنیوی مفادات کی بھینٹ چڑھا، اور یوں “إن الرجل ليهجر” جیسے بے ادب الفاظ تاریخِ اسلام کا روح فرسا داغ بن گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امت نے وحی کے مقابلے میں رائے ، عقل اور قیاس کو معیارِ قیادت بنا لیا ، اور اس کے اثرات صدیوں تک اُمت کے فکری و عملی وجود کو متزلزل کرتے رہے۔

غدیر : الٰہی قیادت کا اعلانیہ ، جسے سیاسی مفادات نے دبا دیا

واقعۂ غدیر محض ایک شخص کی نامزدگی نہیں بلکہ اسلام کے ریاستی اور روحانی نظام کا آئینی اعلامیہ تھا۔ “مَن كُنتُ مولاه فَهذا عَلِيٌّ مولاه” کوئی جذباتی یا وقتی اعلان نہیں، بلکہ یہ امامتِ الٰہیہ کی صراحت تھی، جسے رسولؐ نے ہزاروں کے مجمع میں دین کے ابلاغ کے آخری مرحلے پر پیش فرمایا۔ لیکن جب خلافت علیؑ کے بجائے سقیفہ کی بند نشست میں طے کی گئی، تو درحقیقت امت نے غدیر کو نظرانداز کر کے نبوی منصوبے سے بغاوت کی۔ آج جب مسلم ذہن خلافت کے قیام کے خواب دیکھتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر سقیفہ کے درخت کو سیراب کرتا ہے، غدیر کے دریا کو نہیں۔

اہل بیتؑ کی قربانیاں: حجتِ خدا یا ضمیرِ امت پر صدائے احتجاج ؟

اہل بیت علیہم السلام کی حیات طیبہ اور ان کی عظیم قربانیاں فقط تاریخی واقعات نہیں ، بلکہ ہر دور کی بیداری کے لیے حجت اور ہر ضمیر کے لیے آہنگِ احتجاج ہیں :

• فاطمۃ الزہراؑ کی شہادت : عدلِ اسلامی کے چہرے پر وہ طمانچہ ہے جس کی گونج آج بھی مظلوموں کی فریاد میں سنائی دیتی ہے۔

• علیؑ کی خاموشی: وہ صبر جو فساد کے دور میں امت کی وحدت کو تحفظ دیتا رہا۔

• حسنؑ کی صلح : حکمت و بصیرت کا وہ عملی مظہر جو امن و عدل کی حد بندی کرتا ہے۔

• حسینؑ کی کربلا : وہ آخری حجت جو قیامت تک کے لیے حق و باطل کو علیحدہ کر گئی۔

• آئمہؑ کی زندگیاں : ظلمت کے ماحول میں علم ، تقویٰ اور ہدایت کے چراغ ، جو تاریخ کی ہر تاریکی میں روشنی دیتے رہے۔

جب خاندانِ رسالتؐ جیسی مقدس و معصوم ہستیوں کو تاریخ کی بے رحم موجوں نے نہ بخشا ، تو آج کے مظلومین ، مصلحین اور صاحبانِ فکر کے ساتھ ناروا سلوک پر حیرت کیسی ؟

دین کی سوداگری اور ملوکیت کی تثبیت

اسلام کو تخت و تاج کا آلہ بنانے کا آغاز اموی و عباسی خلافتوں سے ہوا۔ دین، جو علم، عدل، اور روحانیت کا مظہر تھا، اسے اقتدار، جبر اور تشدد کا لبادہ اوڑھا دیا گیا:

• آیاتِ قرآنی کو سیاسی مفادات کے لیے تفسیر کیا گیا

• احادیث کو دربار کے مطابق گھڑا گیا

• درباری علما کو مقدس لباس عطا ہوا، اور حق گو علما زندیق و رافضی قرار پائے

یوں خلافت، امامت کے نور سے منقطع ہو کر ملوکیت کے اندھیرے میں داخل ہو گئی۔

وہابیت : تجدیدِ دین یا روحانیت کا قتل ؟

جب دین صرف “ممنوعات و واجبات” کی فہرست بن جائے اور روحانی اتصال منقطع ہو جائے، تو ایسی تحریکیں جنم لیتی ہیں جو ظاہری تطہیر کے نام پر باطنی نور کو بجھا دیتی ہیں۔ وہابیت نے :

• عشقِ رسولؐ کو بدعت

• زیارتِ قبور کو شرک

• اولیاء و صالحین کے احترام کو گمراہی

• اہل بیتؑ کے ذکر کو رافضیت قرار دیا

درحقیقت، وہابی تحریک ایک ایسی خشک تعبیرِ دین تھی جس نے محبتِ رسولؐ و آلِ رسولؑ کے نورانی رشتے کو گمراہی قرار دے کر امتِ مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کو روحانی جذبات ، عرفان فکر ، جمالیاتی ذوق و احساس ، قلبی لطافت اور فکری نرمی سے بیگانہ بنا دیا ۔

استعمار: قصرِ ابیض کی خیرات، غدیر سے بغاوت کی سزا

آج امت کا سیاسی نقشہ اس تلخ حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ جس نے غدیر کے نور کو چھوڑا، وہ قصرِ ابیض کی غلامی پر مجبور ہوا:

• سعودی عرب امریکی مفادات کا محافظ

• ترکی نیٹو کے سائے میں اردگان جیسے منافق حکمران جس کا مقدر

• مصر صہیونی نظام کا ہم نوا

• پاکستان امریکہ کے مکمل شکنجے میں

یہ سب اسی تاریخی انحراف کا تسلسل ہے، جس نے نبوی قیادت کو چھوڑ کر طاغوتی مرکزیت کو قبول کیا ۔

فکری زوال: شعور کا انحلال

امت مسلمہ آج:

• فکری دلیل سے محروم

• ایمانی اخلاص سے خالی

• قیادت سے نابلد

• اور تاریخی شعور سے بیگانہ ہے

ایسی قوم جو اپنے ماضی سے ناآشنا ہو، وہ حال کی قیمت ادا نہیں کر سکتی، اور مستقبل کی تیاری سے بھی قاصر رہتی ہے۔

کتاب و عترت: نجات کا متروک مگر واحد راستہ

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

“إنّي تاركٌ فيكم الثّقلين، كتابَ اللهِ وعترتي…”

(صحیح مسلم، حدیث 2408)

قرآن اور عترت دو ایسے نورانی محور ہیں ، جنہیں تھامے بغیر امت گمراہی کے اندھیروں سے نہیں نکل سکتی۔ اگر قرآن کو لے کر عترت کو چھوڑ دیا جائے ، تو تشدد اور تحریف جنم لیتی ہے، اور اگر عترت کو لے کر قرآن کو ترک کر دیا جائے، تو شخصیت پرستی اور بدعت کی گمراہی طاری ہو جاتی ہے۔

دونوں کو یکجا تھامنا ہی نجات کی واحد صورت ہے۔

واپسی کی واحد راہ

اگر امت مسلمہ واقعی نجات کی آرزو رکھتی ہے ، تو :

• اسے سبز گنبد سے رشتہ جوڑنا ہوگا

• وصیتِ رسولؐ کو شعوری طور پر تسلیم کرنا ہوگا

• غدیر کے اعلان کو صرف تاریخی واقعہ نہیں، قیادت کی حجت ماننا ہوگا

• اور محبتِ اہل بیتؑ کو اطاعت و اتباع میں بدلنا ہوگا

ورنہ :

“جس امت نے علیؑ کو تنہا چھوڑا ، وہ خود تنہا ہو گئی”

قصرِ ابیض سے جو مانگ رہے ہو خیرات

سبز گنبد سے بغاوت کی سزا پائی ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha