حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ عید الفطر کی رات گھر کے تمام افراد حتیٰ کہ نومولود بچے کا فطرہ دینا بھی واجب ہے۔زکوٰة فطرہ کا استحقاق وہ شخص رکھتا ہے جس کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے سال بھر اخراجات نہ ہوں اور اس کا کوئی روزگار بھی نہ ہو جس کے ذریعے وہ اپنے اہل و عیال کا سال بھر خرچہ پورا کر سکے جبکہ خود مستحق شخص پر فطرہ واجب نہیں ہے، نیز فطرہ کے مستحق وہی افراد ہیں جو زکوٰة کے مستحق ہیں۔
فطرہ چاند دیکھ کر واجب کی نیت سے بھی دیا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت میں تمام مجتہدین کا متفقہ فتویٰ ہے کہ آپ عید کا چاند دیکھنے سے پہلے ماہ مبارک کی کسی بھی تاریخ میں مستحق کو قرض دے سکتے ہیں،اور عید کا چاند دیکھ کر اس کا فطرہ کی مد میں حساب کر سکتے ہیں تاکہ مستحق افراد عید کی خوشیوں کے لئے سامان خرید سکیں۔
واضح رہے کہ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ زیادہ تر گندم استعمال کرنے والے اہل ایمان 300 روپے اور زیادہ تر چاول استعمال کرنے والے900 روپے فی کس کے حساب سے فطرہ ادا کریں۔
انہوں نے کہا ہے کہ زیادہ تر گندم استعمال کرنے والے افراد تین کلو گندم فی کس یا اس کی مقامی قیمت بطور فطرہ ادا کریں۔
آپ کا تبصرہ