۴ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 23, 2024
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

حوزہ/ رئیس الوفا ق المدارس الشیعہ پاکستان: تمام مجتہدین کا متفقہ فتویٰ ہے کہ عید کا چاند دیکھنے سے پہلے ماہ مبارک کی کسی بھی تاریخ میں فطرانہ دیا جاسکتا ہے،خود مستحق شخص پر فطرہ واجب نہیں ہے ،فطرہ کے مستحق وہی افراد ہیں جو زکوٰة کے مستحق ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی نے واضح کیا ہے کہ اپنے اور اہل و عیال کے لئے سال بھر کے اخراجات نہ رکھنے والا شخص زکوٰة فطرہ کامستحق ہے۔جبکہ خود مستحق شخص پر فطرہ واجب نہیں ہے ،نیز فطرہ کے مستحق وہی افراد ہیں جو زکوٰة کے مستحق ہیں ۔فطرہ چاند دیکھ کر واجب کی نیت سے بھی دیا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت میں تمام مجتہدین کا متفقہ فتویٰ ہے کہ آپ عید کا چاند دیکھنے سے پہلے ماہ مبارک کی کسی بھی تاریخ میں فطرانہ دے سکتے ہیں۔ اور چاند دیکھ کر اس کا حساب کر سکتے ہیں۔ تاکہ مستحق افراد عید کی خوشیوں کے لئے سامان خرید سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عید الفطر کی رات گھر کے تمام افراد حتی کہ نومولود بچے کا فطرہ دینا بھی واجب ہے۔انہوں نے کہا کہ فقہ جعفریہ کے مطابق زیادہ تر گندم استعمال کرنے والے اہل ایمان 170 روپے اور زیادہ تر چاول استعمال کرنے والے 450 روپے فی کس کے حساب سے فطرہ ادا کریں۔جبکہ زیادہ تر گندم استعمال کرنے والے افراد تین کلو گندم فی کس یا اس کی مقامی قیمت بطور فطرہ ادا کرسکتے ہیں ۔جس کی اوسط قیمت تقریبا 170روپے بنتی ہے ۔جبکہ زیادہ تر چاول استعمال کرنے والے تین کلو چاول فی کس یا اس کی مقامی قیمت ادا کریں۔اس کی اوسط قیمت تقریباً 450 روپے بنتی ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .