حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چھٹی بین الاقوامی قدس شریف کانفرنس "حی علی القدس" کے عنوان سے اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر عسلویہ میں منعقد ہوئی، جس میں 13 ممالک سے تعلق رکھنے والے 80 غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی۔
اس اہم کانفرنس میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے طالب علم مولانا شیخ ریحان حیدر نے بھی شرکت کی اور حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت مبارکہ تلاوت کی:
وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرہ: 190)
"اور تم راہِ خدا میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں، لیکن حد سے تجاوز نہ کرو، یقیناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"
انہوں نے کہا کہ تاریخی روایات کے مطابق، مسلمانوں کو پہلی مرتبہ یہ حکم دیا گیا کہ وہ ان لوگوں کے خلاف مسلح جہاد کریں جو دعوتِ اسلام کی راہ میں مسلح مزاحمت کرتے ہیں۔ اس سے پہلے، مسلمانوں کو صبر اور انتظار کی تلقین کی جاتی تھی، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ (البقرہ: 109)
"پس درگزر کرو اور چشم پوشی اختیار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ نازل کر دے۔"
تاہم، آج فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل نہ صرف جنگی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ وہ انسانیت کی تمام حدوں کو بھی پامال کر رہا ہے۔ معصوم عورتوں اور بچوں کے قتل عام سے اسرائیل نے اپنی درندگی کو عیاں کر دیا ہے۔
لہٰذا، تمام مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اسرائیل اور اس کی جارحانہ فکر سے براءت کا اظہار کریں اور اپنے ایمان کا عملی ثبوت دیں۔
آپ کا تبصرہ