جمعرات 1 جنوری 2026 - 22:02
کولکاتا میں ’’خاتونِ جنت سیمینار‘‘ کا انعقاد، سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) پر جامع گفتگو

حوزہ/ حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی سیرتِ طیبہ، اعلیٰ کردار اور آفاقی پیغام کو اجاگر کرنے کے مقصد سے کولکاتا کے مولاعلیٰ یوتھ سینٹر میں ’’خاتونِ جنت سیمینار‘‘ منعقد ہوا۔ اس سیمینار کا اہتمام مجمعِ تقریب اور نورالاسلام اکیڈمی کے اشتراک سے جبکہ ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تعاون سے کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی سیرتِ طیبہ، اعلیٰ کردار اور آفاقی پیغام کو اجاگر کرنے کے مقصد سے کولکاتا کے مولاعلیٰ یوتھ سینٹر میں ’’خاتونِ جنت سیمینار‘‘ منعقد ہوا۔ اس سیمینار کا اہتمام مجمعِ تقریب اور نورالاسلام اکیڈمی کے اشتراک سے جبکہ ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تعاون سے کیا گیا۔ پروگرام کی ادارت و نگرانی ڈاکٹر مولانا رضوانُ السّلام خان نے انجام دی۔

سیمینار کا آغاز ایران سے تشریف لائے عالمی شہرت یافتہ قاریِ قرآن پیمان خیرخواہ کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے محفل کو روحانی فضا سے معطر کر دیا۔

علمی نشست بعنوان ’’حضرت فاطمہ زہرا (س) کی روشن زندگی‘‘ میں ممتاز اسلامی مفکر ڈاکٹر سید محسن رضا عبدی، مولانا عبدالروف، مولانا امینُ الانبیاء اور نامور ہندو دانشور پروفیسر مدن چندر کرن نے خطاب کیا۔ مقررین نے حضرت فاطمہ زہرا (س) کے کردار، ایثار، خواتین کے مقام و عظمت، عدلِ اجتماعی اور انسانی اقدار کی عصری معنویت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر خاتون مقررہ فرزانہ فاطمہ خان نے کہا کہ موجودہ دور میں خواتین کی خودی، وقار اور اخلاقی استحکام کے لیے حضرت فاطمہ زہرا (س) کا اسوۂ حسنہ ایک جامع اور قابلِ عمل نمونہ ہے۔

پروگرام کے ادبی حصے میں ’’فضیلتِ فاطمہ (س)‘‘ کے عنوان سے نعتیہ اور موضوعاتی کلام پیش کیا گیا، جس میں شاعر گلشن صاحب، مشتاق احمد اور دیگر شعراء نے اپنی تخلیقات سنائیں۔

سیمینار کے دوران ’’جنتی حور: حضرت فاطمہ زہرا (س)‘‘ کے عنوان سے ایک اہم کتاب کی رونمائی بھی عمل میں آئی، جبکہ ’’سچ کی راہ‘‘ نامی رسالہ اور دیگر مطبوعات شرکاء میں تقسیم کی گئیں۔

اختتامی مرحلے میں ’’خاتونِ جنت ایوارڈ‘‘ ممتاز عالمِ دین ڈاکٹر سید محسن رضا عبدی کو پیش کیا گیا، جبکہ ایرانی قاری پیمان خیرخواہ کو بھی خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔ اسی موقع پر مضمون نویسی کے مقابلے کے نتائج کا اعلان کیا گیا، جس میں 34 شرکاء نے حصہ لیا۔ اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو خصوصی انعامات دیے گئے جبکہ دیگر تمام شرکاء کو توصیفی اسناد اور حوصلہ افزائی انعامات پیش کیے گئے۔

سیمینار میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں خواتین کی نمایاں موجودگی قابلِ توجہ رہی۔ یہ پروگرام مذہبی، ثقافتی اور انسانی اقدار کے حسین امتزاج کے ساتھ نئے سال کے آغاز پر معاشرے کے لیے ایک مثبت اور بامقصد پیغام ثابت ہوا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha