اتوار 4 جنوری 2026 - 12:15
استاد انصاریان: مولائے کائنات (ع) کی خانہ کعبہ میں ولادت، حضرت ابراہیم (ع) کی دعا کا ثمر

حوزہ/ حجت‌الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے ماہِ رجب کی مناسبت سے تہران میں اپنے خطاب کے دوران قرآنِ کریم میں «آلِ ابراہیم» کے مقام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعائیں، جن میں موحد، عابد اور نمازگزار نسل کی درخواست کی گئی تھی، ولادتِ امیرالمؤمنین علی بن ابی‌طالب علیہ السلام کے موقع پر کامل ترین صورت میں قبول ہوئیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے ماہِ رجب کی مناسبت سے تہران میں اپنے خطاب کے دوران قرآنِ کریم میں «آلِ ابراہیم» کے مقام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعائیں، جن میں موحد، عابد اور نمازگزار نسل کی درخواست کی گئی تھی، ولادتِ امیرالمؤمنین علی بن ابی‌طالب علیہ السلام کے موقع پر کامل ترین صورت میں قبول ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ قرآن میں آلِ ابراہیم سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل ہے، جو دو شاخوں—اسحاق اور اسماعیل—سے آگے بڑھی۔ نسلِ اسحاق سے متعدد انبیاء علیہم السلام آئے، جب کہ نسلِ اسماعیل سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور بارہ ائمہ معصومین علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے۔ یہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی گہری اور خالص دعاؤں کا نتیجہ ہے۔

استاد انصاریان نے سورۂ بقرہ اور سورۂ ابراہیم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اور اپنی ذریت کے لیے اسلام، عبادت، نماز اور اہلِ ایمان کے دلوں میں محبت کی دعا کی، جو صرف پاک دلوں کو نصیب ہوتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہی قرآنی دعاؤں کی بنیاد پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے آباء و اجداد سب موحد اور عبادت گزار تھے، اور ان پر شرک کا الزام قرآن کے خلاف ہے۔

ولادتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاطمہ بنتِ اسد سلام اللہ علیہا کی دعا پر دیوارِ کعبہ شق ہوئی اور علی علیہ السلام خانۂ خدا میں پیدا ہوئے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی روشن ترین تجلی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha