حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نمازِ جماعت بڑی فضیلت رکھتی ہے، لیکن بعض افراد بیماری یا جسمانی مشکلات کے باعث امامِ جماعت کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگی کے ساتھ حرکاتِ نماز انجام نہیں دے پاتے۔ یہ استفتاء اپنی عملی اہمیت کے باعث اُن بہت سے مأمومین کی تشویش کو دور کرتا ہے جو جسمانی محدودیت، مثلاً سانس کی تنگی، کا شکار ہوتے ہیں، اور ایسے حالات میں نمازِ جماعت کی صحت کی حد واضح کرتا ہے۔
سوال: اگر کوئی مأموم بیماری (مثلاً سانس کی تنگی) کی وجہ سے مجبور ہو کہ امامِ جماعت سے پہلے رکوع یا سجدے سے سر اٹھا لے، تو کیا اس کی نماز جماعت کے طور پر صحیح ہوگی؟
جواب: اگر مأموم جان بوجھ کر امامِ جماعت سے پہلے رکوع یا سجدے سے سر اٹھائے تو اس کی نماز جماعت سے نکل کر فرادا شمار ہوگی؛ البتہ وہ تھوڑی سی تاخیر کے ساتھ رکوع اور سجدہ انجام دے سکتا ہے تاکہ امام کے ساتھ یا امام کے بعد رکوع اور سجدے سے سر اٹھا سکے۔









آپ کا تبصرہ