حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ محسن فقیہی نے اعتکاف کے ہدف اور مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اعتکاف کا اصل ہدف خودسازی اور خواہشاتِ نفسانی کے خلاف جہاد ہے تاکہ انسان بہتر انداز میں خدائے متعال کی بندگی کے راستے پر گامزن ہو سکے۔ اگرچہ یہ ضروری ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی میں اللہ کو یاد رکھے اور شیطان و نفسِ امّارہ کا مقابلہ کرے، لیکن روزمرہ زندگی کی مصروفیات میں انسان اکثر غفلت کا شکار ہو جاتا ہے، جسے اعتکاف جیسی معنوی عبادات کے ذریعے روح و فکر سے دور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایّامِ البیض (13،14, 15) کا اعتکاف خلوت، دعا اور مناجات کے لیے بہترین موقع فراہم کرتا ہے، جہاں روزہ، نماز پر خصوصی توجہ اور قرآنِ کریم کی تلاوت کے سائے میں انسان خودسازی اور تہذیبِ نفس کی طرف بڑھ سکتا ہے اور یوں اپنے معنوی پہلو اور خالقِ متعال سے تعلق کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
جامعۂ مدرسین کے رکن نے مزید کہا کہ یہ تین دن بندگی کی ایسی عملی تربیت ہیں جو معتکفین کو ماضی کی لغزشوں پر استغفار اور حقیقی توبہ کی توفیق فراہم کرتے ہیں اور سعادت کے راستے پر چلنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اعتکاف ایک تین روزہ معنوی تربیتی کیمپ ہے جو انسان کی دینی اور روحانی زندگی میں کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
آیت اللہ فقیہی نے کہا کہ اعتکاف میں شرکت کا پہلا اثر گناہوں کی مغفرت اور معتکف کے دل و روح کی صیقل ہے، تاہم اس کے ثمرات فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے باعث اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے میں بھی نمایاں ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معتکف ہونا ایک گہرا روحانی تجربہ ہے جس کے بے شمار ثمرات ہیں، جن میں سب سے اہم روحی و ذہنی سکون کا حصول ہے۔ اعتکاف کے ذریعے انسان دنیاوی ہنگاموں اور غفلت انگیز ماحول سے کچھ عرصے کے لیے دور ہو کر اپنی زندگی اور اس کے مقاصد پر غور و فکر کرتا ہے اور اس طرح اپنے رب کے ساتھ تعلق کو درست سمت میں ازسرِنو استوار کرتا ہے۔
جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم کے رکن نے آخر میں کہا کہ اعتکاف انسان کے اندر مثبت توانائی اور اعلیٰ مقصد کے ساتھ زندگی گزارنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے، تاکہ وہ اس عبادت کے بعد نئی روح اور واضح ہدف کے ساتھ اپنی روزمرہ زندگی کی طرف لوٹ سکے۔ اعتکاف درحقیقت باطن کی تعمیر اور آئندہ زندگی میں رشد و کمال کی راہ ہموار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔









آپ کا تبصرہ