پیر 5 جنوری 2026 - 16:13
حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کا ادب و اخلاص، شہید مطہری کی نظر میں

حوزہ / حضرت زینب سلام اللہ علیها کربلا میں اپنے فرزند عون بن عبداللہ بن جعفر کی شہادت کی گواہ تھیں اور اعلیٰ تربیت اور عظیم صبر کے ساتھ حتیٰ کہ اس کی شہادت کے بعد بھی اپنے بیٹے کا نام زبان پر نہیں لائیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد شہید مطہری نے 15 رجب، عقیلہ بنی ہاشم کی رحلت کی مناسبت سے اور حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی زیارت کے خصوصی ایام کے موقع پر اپنی کتاب «آزادی معنوی» میں «زینب کبری سلام اللہ علیها کے ادب و اخلاص» کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے:

ایک اور نوجوان جو کربلا میں شہید ہوا اور اس کی والدہ موجود تھیں، عون بن عبداللہ بن جعفر ہیں جو جناب زینب کبری سلام اللہ علیها کے فرزند تھے یعنی حضرت زینب سلام اللہ علیها اپنے بافضیلت بیٹے کی شہادت کی خود گواہ تھیں۔

عبداللہ بن جعفر جو حضرت زینب سلام اللہ علیها کے شوہر تھے، ان کے دو بیٹے کربلا میں موجود تھے، ایک حضرت زینب سلام اللہ علیها سے اور دوسرا ایک دوسری زوجہ سے تھا اور دونوں شہید ہوئے۔ لہٰذا حضرت زینب سلام اللہ علیها کا بیٹا بھی کربلا میں شہید ہوا۔

ان عجائبات میں سے ایک جو اس عظیم خاتون کی نہایت بلند و اعلیٰ تربیت کو ظاہر کرتا ہے، یہ ہے کہ کسی بھی مقتل میں یہ نہیں لکھا گیا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیها نے نہ اپنے بیٹے کی شہادت سے پہلے اور نہ بعد میں کبھی اس کا نام لیا ہو۔

گویا اگر وہ اس نام کو زبان پر لانا چاہتیں تو اسے کسی قسم کی بے ادبی سمجھتی تھیں یعنی یا اباعبداللہ! میرا فرزند اس لائق نہیں کہ آپ پر قربان ہو۔

مثال کے طور پر حضرت علی اکبر کی شہادت کے وقت تو حضرت زینب سلام اللہ علیها خیمے سے باہر دوڑیں اور پکارا: «یا اُخَیّاہ وَابْنَ اُخَیّاہ!» اور ان کی فریاد فضا میں گونج اٹھی لیکن کہیں یہ نہیں لکھا گیا کہ اپنے فرزند کی شہادت پر انہوں نے اس طرح کا کوئی عمل انجام دیا ہو۔

حوالہ: استاد مطہری، آزادی معنوی، صفحہ ۱۹۲

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha