منگل 27 جنوری 2026 - 04:00
جب روزی اللہ دیتا ہے، تو اجرت کیوں انسان طے کرتا ہے؟

حوزہ/ توحیدی نگاہ میں اللہ تعالیٰ ہی حقیقی رازق ہے اور انسان محض رزق پہنچانے کے واسطے ہیں۔ انسانوں کا روزی دینا اللہ کی مشیت کے تحت ہے، اس سے جدا اور مستقل نہیں۔ اس حقیقت کی سمجھ انسان کے دل میں توکل بھی پیدا کرتی ہے اور محنت، ذمہ داری اور احساسِ فرض کو بھی بامعنی بناتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، توحیدی نگاہ میں رزق، اللہ تعالیٰ کے فیض کا وہ جلوہ ہے جو قدرتی اسباب کے ذریعے انسان تک پہنچتا ہے۔

سوال: حقیقت میں رزق و روزی کس کے ہاتھ میں ہے؟ توحیدی عقیدے کے مطابق تو سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے، لیکن عملی زندگی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان ہی ایک دوسرے کی روزی کا تعین کرتے ہیں؛ مزدور انسان کا محتاج ہے، ملازم حکومت پر منحصر ہے اور بچہ والدین کے زیرِ کفالت ہوتا ہے۔ تو اصل حقیقت کیا ہے؟ اس مسئلے کو درست اور گہرے انداز میں کیسے سمجھا جائے؟

جواب: لفظ رزق کے اصل معنی عطا اور وہ فائدہ ہیں جو انسان کو حاصل ہو (1) اور یہ صرف کھانے پینے یا لباس تک محدود نہیں، بلکہ علم، عزت، آبرو، ہدایت اور ہر وہ چیز جس سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے، رزق کی اقسام میں شامل ہے (2)۔ دینی نقطۂ نظر سے خدا، نہ صرف کائنات کا خالق ہے بلکہ تمام مخلوقات کا حقیقی روزی دینے والا بھی ہے۔ قرآنِ کریم بارہا اس حقیقت پر زور دیتا ہے: “بے شک اللہ ہی زبردست قوت والا، بڑا رزق دینے والا ہے” (3)

اور “کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو؟” (4)

تاہم بعض آیات میں انسانوں کو بھی رزق پہنچانے والا قرار دیا گیا ہے، مثلاً باپ کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ دودھ پلانے کے زمانے میں ماں کے اخراجات اور خوراک کا انتظام کرے (5)۔ بظاہر یہ دونوں نسبتیں مختلف نظر آتی ہیں، لیکن حقیقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں (6)۔

ذیل میں اس حقیقت کو چند نکات کی صورت میں واضح کیا جا رہا ہے:

پہلا نکتہ: توحیدی نگاہ

توحیدی نظریے کے مطابق، اللہ تعالیٰ نہ صرف کائنات کا خالق ہے بلکہ اس کے تمام امور کا منتظم اور مدبر بھی ہے۔ تاریخ میں بعض لوگوں نے یہ گمان کیا کہ خدا نے دنیا کو پیدا کر کے اس کا نظام فرشتوں، ستاروں یا دیگر قوتوں کے حوالے کر دیا، مگر قرآنِ کریم اس خیال کو صراحت کے ساتھ رد کرتے ہوئے فرماتا ہے:

“وہی ہے جو تمام امور کی تدبیر کرتا ہے” (7)

لہٰذا کائنات میں جاری ہر عمل "ستاروں کی گردش سے لے کر بندوں تک روزی پہنچانے تک" سب اللہ کی مشیت کے تحت ہے۔ رازق ہونا بھی اسی ربوبیت اور تدبیرِ الٰہی کا حصہ ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھے کہ کوئی دوسرا شخص مستقل طور پر روزی دیتا ہے تو درحقیقت وہ اللہ کی ربوبیت میں شریک ٹھہراتا ہے۔ پس توحیدِ ربوبی پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس بات پر یقین رکھے کہ حقیقی روزی دینے والا صرف اللہ ہی ہے۔

دوسرا نکتہ: اسباب کا طولی نظام

توحیدی فکر میں کوئی بھی مخلوق خود مختار ہو کر کوئی کام انجام نہیں دیتا۔ جس طرح ہر وجود کا ہونا اللہ پر موقوف ہے، اسی طرح اس کا اثر اور عمل بھی اللہ کے اذن سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو توحیدِ افعالی کہا جاتا ہے۔ تمام اسباب و علل ایک طولی زنجیر کی مانند ہیں، جن کی انتہا اللہ تعالیٰ، یعنی علتُ العلل، تک جا ملتا ہے۔

باپ، کارفرما یا حکومت بظاہر روزی دینے والے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ رزقِ الٰہی کے پہنچنے کے واسطے ہیں۔ اس لیے انسانوں کا رزق دینا اللہ کی مشیت کے مقابل نہیں بلکہ اسی کے تحت ہوتا ہے۔ جیسے چاند سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے، ویسے ہی انسان اللہ کی رزاقیت کے فیض کو آگے منتقل کرتا ہے۔ اس معنی میں اللہ بالذات رازق ہے اور باقی سب بالغیر؛ یعنی بندوں کے ہاتھوں جو کچھ ملتا ہے، وہ دراصل اللہ ہی کے رزق کا مظہر ہے جو ان کے ذریعے دوسروں تک پہنچتا ہے (8)۔

نتیجہ

اس نقطۂ نظر کے مطابق، حقیقی روزی دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، مگر اس کی سنت یہ ہے کہ انسانوں کا رزق قدرتی اسباب اور ذاتی و اجتماعی کوششوں کے ذریعے فراہم ہو۔ اس حقیقت کو صحیح طور پر سمجھنے سے دو اہم فائدے حاصل ہوتے ہیں:

اوّل یہ کہ انسان کے دل میں سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے، کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ اس کی روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کوئی بھی شخص مستقل طور پر اسے کم یا زیادہ نہیں کر سکتا۔ یہ یقین توکل کو مضبوط کرتا اور غیر اللہ پر انحصار کو ختم کرتا ہے۔

دوم یہ کہ یہ عقیدہ انسان کو سستی کی طرف نہیں لے جاتا بلکہ اسے محنت، ذمہ داری اور دوسروں کی مدد کی ترغیب دیتا ہے، کیونکہ اللہ نے چاہا ہے کہ رزق انہی کوششوں کے راستے جاری ہو۔ لہٰذا جو شخص اپنے خاندان یا معاشرے کے لیے کام کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کی رحمت پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

توحیدی نگاہ، توکل اور عمل دونوں کو یکجا کرتی ہے؛ ایک ایسی فکر جو قدرتی اسباب کو بھی دیکھتی ہے اور ان کے اصل سرچشمے کو بھی، جو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے (9)۔

۱. راغب اصفهانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن، بیروت، دارالقلم، ۱۴۱۲ ق، ص ۳۵۱.

۲. جوادی آملی، عبدالله، تسنیم، تحقیق علی اسلامی و عبدالکریم عابدینی، قم، اسراء، ۱۳۸۹ ش، ج ۱۳، ص ۶۰۰؛ ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار صادر، ۱۴۱۴ ق، ج ۱۰، ص ۱۱۵.

۳. سوره ذاریات، آیه ۵۸: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّهِ الْمَتِینُ».

۴. سوره فاطر، آیه ۳: «هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللَّهِ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ...».

۵. سوره نساء، آیه ۵: «وَارْزُقُوهُمْ فِیهَا وَاکْسُوهُمْ...».

۶. جوادی آملی، عبدالله، تفسیر موضوعی قرآن کریم - توحید در قرآن، قم، اسراء، ۱۳۸۳ ش، ص ۴۳۰-۴۳۲.

۷. سوره رعد، آیه ۲: «یُدَبِّرُ الْأَمْرَ...».

۸. سبحانی، جعفر، مبانی توحید از نظر قرآن، قم، توحید، ۱۳۶۱ ش، ص ۱۴۶-۲۴۷.

۹. برای مطالعه بیشتر، رک: صلواتی، اعظم و دیگران، بررسی مبانی توحید در رازقیت، فصلنامه پژوهش دینی، بهار و تابستان ۱۴۰۱ ش، شماره ۴۴، ص ۲۳۹-۲۵۴.

ماخذ: پرسمانِ قرآن

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha