حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کی اعلی کونسل کے سیکریٹری آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ دار نے اساتذہ اور طلابِ حوزہ علمیہ بناب کے اجتماع میں اعیادِ شعبانیہ کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے طلاب کی معنوی رشد اور سماجی کردار کی صلاحیت پر زور دیا اور ان کی ذمہ داری کو ایمان کی تقویت، بصیرت کی ارتقا، الہی سرمایوں کا درست محاسبہ اور معاشرے کے لیے عملی نمونہ بننا قرار دیا اور کہا: حوزہ اُس وقت اپنے حقیقی مقام تک پہنچتا ہے جب طلاب عزم، اہتمام اور آگاہی کے ساتھ قربِ الہی اور عوامی خدمت کے راستے پر گامزن ہوں۔
حوزہ علمیہ کی اعلی کونسل کے سیکریٹری نے طلاب کی ذمہ داری اور خودسازی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: جب تک انسان کسی حقیقت کی طرف متوجہ نہ ہو اس کی طرف حرکت کا ارادہ پیدا نہیں ہوتا جیسے اگر کوئی طالبِ علم علمی یا معنوی مقام سے آگاہ نہ ہو تو اس کے دل میں اس مقام تک پہنچنے کا ارادہ کبھی پیدا نہیں ہوتا۔ پس کسی مقصد کی طرف حرکت کی پہلی شرط اس میں دلچسپی اور توجہ ہے۔
انہوں نے ماہِ رجب اور شعبان کی دعاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ دعائیں انسان کو اپنی عظیم صلاحیتوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور سکھاتی ہیں کہ وہ بلند معنوی مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی توجہ انسان کی حرکت اور تعالی کا نقطۂ آغاز ہے۔
آیت اللہ شب زندہ دار نے مناجاتِ شعبانیہ کے مقام و اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: یہ مناجات انسان کے سامنے نہایت بلند افق کھولتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ لقاءِ الہی تک رسائی ممکن ہے۔ لقاءِ الہی سے مراد جسمانی دیدار نہیں بلکہ معرفت، قرب اور حضورِ الہی کے بلند مرتبے تک پہنچنا ہے۔









آپ کا تبصرہ