ہفتہ 7 فروری 2026 - 11:40
اسلام کے نزدیک ازدواج، شہوانی ہونے کے باوجود، اخلاقی قدر کیوں رکھتا ہے؟

حوزہ/ میاں بیوی کے درمیان اگر تعلق صرف جنسی حد تک محدود ہو تو وہ ایک دوسرے کے لیے محض ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ لیکن اسلام میں ازدواج، فطری بنیاد رکھنے کے باوجود، واحد شہوانی عمل ہے جو اخلاقی پہلو بھی رکھتا ہے اور انسان کی معنویت پر مثبت اثر ڈالتا ہے، جب کہ دیگر غرائز کے بارے میں ایسا نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممتاز مفکر اور استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ نے اپنی ایک تصنیف میں اسلام کے ازدواجی نظام پر اخلاقی نگاہ سے متعلق ایک اہم سوال و جواب کی طرف اشارہ کیا ہے، جو اہلِ فکر کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

جب تک میاں بیوی کا رشتہ محض شہوانی، یعنی صرف جنسی تعلق تک محدود رہے، تو فطری طور پر وہ ایک دوسرے کو ایک آلے (وسیلے) کے طور پر دیکھتے ہیں۔

کیونکہ جنسی تعلق ایک حیوانی اور فطری امر ہے؛ غریۂ جنسی کی تسکین کے لیے عورت مرد کے لیے محض ایک ذریعہ بن جاتی ہے اور مرد عورت کے لیے۔

لیکن زوجین کا حقیقی رشتہ، خاندانی نظام، اور خاندان کی روح صرف غریۂ جنسی تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک ایسی بلند تر روحانی وابستگی پر قائم ہوتی ہے جو دو انسانوں کے درمیان پیدا ہوتی ہے۔

یعنی وہ ایک دوسرے کی شخصیت سے محبت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بڑھاپے میں، جب جنسی غریزه کمزور بلکہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے، تب بھی خاندانی تعلق، محبت اور انسیت باقی رہتی ہے، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اور گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔

یہ وہ پہلا مرحلہ ہے جہاں انسان اپنی محض انفرادی خود غرضی کے خول سے باہر نکل کر دوسرے کے ساتھ حقیقی وابستگی قائم کرتا ہے۔

اسی بنا پر اسلام میں ازدواج کو اخلاقی حیثیت حاصل ہے، حالانکہ اس کی بنیاد ایک فطری اور شہوانی غریزه پر ہے۔

یہ واحد عمل ہے جو قدرتی اور شہوانی ہونے کے باوجود اخلاقی پہلو بھی رکھتا ہے۔

مثال کے طور پر، کھانا کبھی اخلاقی عمل نہیں بنتا، لیکن ازدواج بذاتِ خود ایک اخلاقی عمل شمار ہوتا ہے۔

اسی طرح انسانی شہوانی غرائز میں سے ہر غریزه کی تسکین کا انسان کی معنویت پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا، سوائے غریۂ جنسی کے۔

اسی وجہ سے اسلام میں ازدواج کو ایک سنت اور مستحب عمل قرار دیا گیا ہے۔

حوالہ: استاد شہید مرتضیٰ مطہریؒ، تعلیم و تربیت در اسلام، صفحات ۱۶۵، ۱۶۶

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha