حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ حائری شیرازی نے اپنے ایک فکری و اخلاقی بیان میں نامحرم کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے نہایت اہم اور بنیادی نکتہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نامحرم عورت کو اپنی طرف مائل کرنا یا اس میں شیفتگی پیدا کرنا ایک نادرست اور فتنہ انگیز عمل ہے، جس کے سنگین سماجی اور اخلاقی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
مرحوم آیت اللہ حائری شیرازی نے اپنے اس بیان میں اس امر پر زور دیا کہ انسان کو ابتدا ہی سے ایسے رویّوں سے اجتناب کرنا چاہیے جو بعد میں بڑے اخلاقی انحراف کا سبب بن جائیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا:
“اگر کوئی مرد ایسا طرزِ عمل اختیار کرے کہ نامحرم عورت اس کی طرف مائل ہو جائے، تو کیا یہ درست ہے؟ آخر اس شیفتگی کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ سراسر فتنہ ہے۔”
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ ان امور کو سنجیدہ نہیں لیتے، اور یہی غفلت بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ایک شادی شدہ عورت بھی جذباتی وابستگی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ان کے بقول، جب انسان ابتدا ہی سے حدودِ الٰہی کا خیال نہیں رکھتا تو بعد میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مرحوم آیت اللہ حائری شیرازی نے ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ ایک خاتون ان کے والد کے پاس آئیں اور کہا کہ اگر آپ نے مجھ سے شادی نہ کی تو میں خودکشی کر لوں گی، حالانکہ ان کی والدہ اس وقت با حیات تھیں۔ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی غیر فطری اور غیر شرعی کیفیات لاپروائی اور غلط رویّوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
انہوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ شریعتِ اسلامی انسان کو ابتدا ہی سے احتیاط کا حکم دیتی ہے۔ جس طرح قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: «قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ»
یعنی اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں، اسی طرح زبان اور سماعت کے بارے میں بھی ضبط اور خودداری اختیار کرنا ضروری ہے۔
مرحوم عالمِ دین نے واضح کیا کہ جنسی غریزه صرف آنکھ کے ذریعے ہی نہیں بلکہ کان اور سونگھنے کی حس کے ذریعے بھی انسان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی بنا پر شریعت میں نامحرم کے ساتھ تعامل کے دوران خوشبو لگانے سے بھی اجتناب کی تلقین کی گئی ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ عقل مند انسان کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے، اور اگر قرآن کی ہدایات کو صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو انسان بہت سے اخلاقی لغزشوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ