منگل 10 فروری 2026 - 16:37
اسلام آباد کی مسجد میں دھماکہ: سکیورٹی اور ریاستی ذمہ داری پر سوالات، مولانا سید ذہین علی کاظمی نجفی

حوزہ/ نجف اشرف میں مقیم مولانا سید ذہین علی کاظمی نجفی نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کو محض دہشت گردی قرار دے کر نظر انداز کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے اسباب اور سکیورٹی خامیوں کا سنجیدہ جائزہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ سوال اہم ہے کہ سخت سکیورٹی والے دارالحکومت میں حملہ آور کس طرح اپنے ہدف تک پہنچے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کے حساس اور ہائی سکیورٹی زون میں واقع مسجد خدیجۃُ الکبریؓ میں دھماکے کے واقعے نے سکیورٹی انتظامات اور ریاستی دعوؤں پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حملے میں نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور متعدد افراد کے زخمی ہوئے۔

نجف اشرف میں مقیم مولانا سید ذہین علی کاظمی نجفی نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کو محض دہشت گردی قرار دے کر نظر انداز کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے اسباب اور سکیورٹی خامیوں کا سنجیدہ جائزہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ سوال اہم ہے کہ سخت سکیورٹی والے دارالحکومت میں حملہ آور کس طرح اپنے ہدف تک پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ “دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا”، اور دہشت گردی ایک مخصوص انتہا پسند سوچ اور نظریے سے جڑی ہوتی ہے، جسے واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس سوچ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha