حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمی سبحانی کے دفتر سے خواتین کی موٹر سائیکل سواری سے متعلق پوچھے گئے استفتاء کے بارے میں دفترِ معظم لہ نے اس سلسلے میں وضاحت فراہم کی ہے جو قارئین کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔
حضرت آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی کے فقہی نقطۂ نظر کے مطابق شرعی حکم کا محور خود عمل یا وسیلہ نہیں بلکہ وہ عنوان ہے جو عمل کے دوران متحقق ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے خواتین کی گھڑسواری کے بارے میں دفتر کی جانب سے واضح کیا جا چکا ہے کہ اگر سواری تنگ لباس کے ساتھ اور اس انداز میں ہو جو تحریک کا باعث بنے تو جائز نہیں ہے لہٰذا حرمت کا موضوع گھڑسواری یا بطورِ خاص کوئی وسیلہ نہیں بلکہ تبرّج، تحریک یا مفسدہ جیسے عناوین کا تحقق ہے۔
اسی بنیاد پر خواتین کی موٹر سائیکل سواری بھی بذاتِ خود حرام نہیں سمجھی جاتی لیکن اگر یہ نامناسب پوشش کے ساتھ ہو یا نمائش اور سماجی مفسدہ کا سبب بنے تو حکمِ حرمت کے دائرے میں آ جائے گی۔
اس کے برعکس محض موٹر سائیکل سواری فی نفسہٖ حرمت کی شرعی دلیل نہیں رکھتی اور اس کے انجام دینے کے طریقے میں اصل معیار شرعی اور اخلاقی ضوابط کی رعایت ہے۔









آپ کا تبصرہ