حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مفسرِ قرآن کریم اور بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اپنی ایک گفتگو میں کہا کہ بیدار قوم ہی اپنے عقیدے، شناخت اور انقلاب کے ثمرات کی حقیقی محافظ ہوتی ہے۔ غفلت دشمن کو حملے کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ شعور اور ہوشیاری دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیتی ہے۔
انہوں نے موضوع "عوامی بیداری" پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جس لمحے کوئی ملت غفلت کی نیند سو جاتی ہے، اسی وقت دشمن زیادہ چوکس ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب امت بیدار اور باخبر ہو تو وہ ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بن جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی بیداری انقلاب اسلامی کے ثمرات کی حفاظت کے لیے بہترین نگہبان ہے، جبکہ ان کی بے خبری غیر ملکی قوتوں کے حملوں کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ ہر امت کی طاقت اور دشمن کے مقابلے میں اس کی کامیابی کا دارومدار اسی کی ہوشیاری پر ہوتا ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے دشمنانِ دین کی حکمتِ عملی کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی عناصر اور اسرائیلی طرزِ فکر رکھنے والے لوگ ہمیشہ نئی سازشیں تیار کرتے رہتے ہیں۔ ان کی خیانت صرف سیاسی یا عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ باطل نظریات کے پیروکار صرف مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ان کے فاسد مکاتبِ فکر کو اختیار کر لیں اور فکری و عملی طور پر ان کے تابع ہو جائیں۔ قرآن کریم اس حقیقت کو واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ یہ عناصر اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک مسلمان ان کے راستے کی پیروی نہ کریں۔
مرجع عالی قدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دشمن اپنے اہداف کے حصول کے لیے نفوذ اور جاسوسی جیسے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے تاکہ معاشرے کو اندر سے کمزور کیا جا سکے۔ اسی لیے سماجی شعور، فکری بصیرت اور دینی وابستگی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ عوامی بیداری ہی وہ مضبوط حصار ہے جو انقلاب اور ایمان دونوں کی حفاظت کر سکتی ہے۔ جب تک قوم باخبر اور متحد رہے گی، دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
یہ بیانات ان کی کتاب ولایت فقیہ (ص 319-320) میں بھی درج ہیں، جہاں انہوں نے قرآن کی روشنی میں دشمن کی فکری و عملی چالوں کا تجزیہ پیش کیا ہے۔









آپ کا تبصرہ