حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیر حوزہ علمیہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ایران کے شہر قم میں امورِ اوقاف اور حوزہ علمیہ کے ذمہ داران کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں خطاب کے دوران عصرِ حاضر میں حوزہ کی اہم حیثیت اور سنگین ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس مقدس ادارے کی ہمہ جہت حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا: آج کے حوزہ کے حالات پچاس سال پہلے سے بنیادی طور پر مختلف ہو چکے ہیں۔ آج حوزہ اور روحانیت جس نازک مرحلے میں ہیں، اس میں ان کی ذمہ داریاں نہایت سنگین اور متنوع ہیں۔ یہ حساس صورتِ حال وسیع حمایت اور پشتیبانی کی متقاضی ہے جس پر خیرین اور معاشرے کے تمام افراد کو توجہ دینی چاہیے۔
آیت اللہ اعرافی نے موجودہ دور میں حوزہ کے فرائض کے ماضی سے ناقابلِ قیاس ہونے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: آج حوزہ سے وابستہ مطالبات اور ذمہ داریاں کسی طور پچاس سال پہلے سے قابلِ موازنہ نہیں۔ حوزہ میں ہونے والی تمام سرگرمیوں اور کوششوں کے باوجود شاید ہم اپنی عائد شدہ ذمہ داریوں کا سوواں حصہ بھی ادا نہیں کر پا رہے۔

انہوں نے دنیا میں انقلاب اسلامی کے بلند مقام پر زور دیتے ہوئے کہا: شہداء کے خون، انقلاب اسلامی اور خیرین و عوام کی حمایت کی برکت سے ہمارے سامنے عالمی سطح پر بے نظیر افق کھل چکے ہیں اور اقوام اسلامی اقدار پر ثابت قدم کھڑی ہیں اور پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
حوزہ علمیہ کی اعلی کونسل کے رکن نے دنیا میں اہل بیت علیہم السلام کے معارف کی کشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو طالب علم اخلاص کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے، وہ تشیع کا پیغام اور نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ جیسے عمیق مفاہیم کو دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے ہمارے دشمنوں کو خوف زدہ کر رکھا ہے کیونکہ اگر ہمارے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے تو ہمیں نہ اسلحے کی ضرورت ہے اور نہ ہی میزائلوں کی۔
آیت اللہ اعرافی نے مزید کہا: دنیا روز بروز اس حقیقت کو سمجھ رہی ہے کہ ہم جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ ہم تو نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔









آپ کا تبصرہ