حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے مبلغین کو تاکید کی ہے کہ وہ تبلیغی سرگرمیوں کے دوران دروسِ تفسیر کو ضرور شامل کریں تاکہ معاشرے میں قرآن زندہ رہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جو حضرات تبلیغ کے لیے مختلف علاقوں میں جاتے ہیں، وہ عمومی اجتماعات میں آیاتِ قرآن سے استدلال کرتے ہیں، لیکن ضروری ہے کہ خصوصی نشستوں کا بھی اہتمام کیا جائے اور باقاعدہ تفسیری بحث پیش کی جائے۔ ان کے بقول اگر معاشرے میں قرآن اور توحید زندہ ہوں تو ایک موحد معاشرہ کبھی کمزور نہیں پڑتا۔
انہوں نے زور دیا کہ جب توحید اجتماعی زندگی میں راسخ ہو جائے تو کوئی بیرونی طاقت یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ وہ اسلامی نظام یا انقلاب کو نقصان پہنچا سکے۔
یہ بیانات انہوں نے درسِ تفسیر سورۂ قیامت کے پانچویں جلسے میں ۲؍ بہمن ۱۳۹۸ھ ش کو ارشاد فرمائے تھے، جنہیں حالیہ دنوں میں دوبارہ منظرِ عام پر لایا گیا ہے۔









آپ کا تبصرہ