مولانا مقداد علی علوی
حوزہ نیوز ایجنسی I
قرآن و اہلبیت علیھم السّلام کی نگاہ میں
طلوعِ رحمت
ماہِ رمضان المبارک کا آفتابِ جہاں تاب جب طلوع ہوتا ہے تو کائنات کے دامن میں ایک عجیب سی کیفیت بکھر جاتی ہے۔ یہ مہینہ صرف روزوں کا نہیں، بلکہ روحوں کا موسمِ بہار ہے۔ اور اس بہار کی خوشبو قرآن و اھلبیت علیھم السّلام کی ان تعلیمات سے پھوٹتی ہے جو اس ماہ کی رحمت باراں میں نازل ہوئیں۔
جب سر زمینِ دل پر اُترے آسمانِ قرآن
یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآنِ کریم نے زمین کے افق پر اپنی جلوہ گری کا آغاز کیا۔ جس طرح بہار میں زمین مردہ ہو کر بھی زندگی کی لہلہاہٹ سے آشنا ہو جاتی ہے، اسی طرح ماہ رمضان کی آمد پر وہ دلوں میں بھی جو برسوں کی غفلت سے مٹی میں دب گئے تھے، ایمان کے پودے پھر سے اُگنے لگتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ. (البقرہ، 185)
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور راہنمائی اور حق و باطل میں فرق کرنے والی روشن نشانیوں پر مشتمل ہے۔
دو بہاریں، ایک گلستان
قرآن کی یہ بہار جب اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کی نگاہوں سے دیکھی جائے تو اس کی رعنائی اور بڑھ جاتی ہے۔ وہ نہ صرف اس کلامِ الٰہی کے محافظ ہیں بلکہ اس کے حقیقی شارح اور مفسر بھی ہیں۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کو چھوڑا، اسی طرح اہلبیت علیھم السلام کو اس کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے۔
امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے قرآن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:وَ تَفَقَّہُوا فِیْہِ فَاِنَّہٗ رَبِیعُ الْقُلُوبِ اور قرآن میں غور و فکر کرو کیونکہ یہ دلوں کی بہار ہے۔
گویا رمضان، قرآن کی بہار ہے اور قرآن، دلوں کی بہار۔ یہ دو بہاریں جب اکٹھی ہو جائیں تو مومن کا دل گلستان بن جاتا ہے جہاں معرفت کے پھول کھلتے ہیں اور محبت الٰہی کی خوشبو پھیلتی ہے۔
بہارِ قرآن کی نوید
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشادِ گرامی ہے:لِکُلِّ شَیْئٍ رَبِیعٌ وَ رَبِیعُ الْقُرْآنِ شَہْرُ رَمَضَانَ"
(الکافی، ج2، ص10 - معانی الأخبار، ج1، ص228)
ہر چیز کی بہار ہوتی ہے اور قرآن کی بہار ماہِ رمضان ہے۔
شب قدر: قلبِ ماہِ صیام
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اس ماہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:غُرَّۃُ الشُّہُوْرِ شَہْرُ رَمَضَانَ وَ قَلْبُ شَہْرِ رَمَضَانَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ. (بحارالانوار، ج96، ص38)
تمام مہینوں کی پیشانی ماہِ رمضان ہے اور ماہِ رمضان کا دل شب قدر ہے۔
شب قدر وہ رات ہے جب قرآنِ کریم کا قلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ اطہر پر نازل ہوا۔ یہ وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اس رات کی برکتوں کا نزول بھی اہلبیتؑ کی وساطت سے ہی ہوتا ہے۔
رشتۂ لا زوال
قرآن و اہلبیت علیھم السّلام کا یہ حسین رشتہ جاودانی، ماہِ رمضان میں اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔
امام زین العابدین علیہ السلام صحیفہ سجادیہ کی دعا میں فرماتے ہیں:وَھٰذَا شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اَنْزَلْتَ فِیْہِ الْقُرْآنَ. اور یہ ماہِ رمضان ہے جس میں تو نے قرآن نازل فرمایا۔
اُنسِ جاوداں
اس ماہِ مقدس کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ ہم اس کلامِ الٰہی سے اس طرح مانوس ہو جائیں جیسے حضرت امام سجاد علیہ السلام مانوس تھے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا:لَوْ مَاتَ مَنْ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَمَا اسْتَوْحَشْتُ بَعْدَ اَنْ یَکُوْنَ الْقُرْآنُ مَعِی"
(تفسیر العیاشی، ج 1، ص 33)
اگر مشرق سے مغرب تک تمام لوگ مر جائیں اور قرآن میرے ساتھ ہو تو مجھے کوئی وحشت نہیں ہو گی۔
یہی وہ مقامِ اُنس ہے جس کی طرف ہمیں رمضان میں قدم بڑھانا ہے۔ جب دل قرآن سے مانوس ہو جائے تو دوستوں کی جدائی بھی رنج نہیں دیتی۔
جیسے امیر کائنات علی بن ابی طالب علیھما السلام نے فرمایا:مَنْ آنَسَ بِتِلَاوَۃِ الْقُرْآنِ لَمْ تُوْحِشْہُ مُفَارَقَۃُ الْإِخْوَانِ. (غرر الحکم، ح 8790)
جو شخص تلاوت قرآن سے مانوس ہو گیا، اسے دوستوں کی جدائی وحشت نہیں دے گی۔
فیضِ بے کراں
اور یہ ماہ رمضان کا ہی کمال ہے کہ اس میں ہر آیت کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ شعبانیہ میں ارشاد فرمایا:وَمَنْ تَلَا فِیْہِ آیَۃً مِّنَ الْقُرْآنِ کَانَ لَہٗ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فِیْ غَیْرِہٖ مِنَ الشُّہُوْرِ. جو شخص اس مہینے میں قرآن کی ایک آیت پڑھے گا، اسے دوسرے مہینوں میں پورا قرآن ختم کرنے کا ثواب ملے گا۔"
پیغامِ بہار
پس یہ بہارِ قرآن ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اس مہمانی میں پورے انہماک سے شریک ہوں۔ اپنے دلوں کی سرزمین کو اس کلامِ الٰہی کے لیے زرخیز کریں اور اس میں غور و فکر کریں کہ شاید کوئی آیت ہمارے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے اور ہمیشگی کی زندگی عطا کر دے۔
دستِ دعا
خدایا! اس ماہِ رمضان کو ہمارے لیے قرآن کی حقیقی بہار بنا دے۔ ہمارے دلوں کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں اپنے حبیبؐ اور ان کی آلِ پاکؑ کی سیرت پر چلنے کی سعادت نصیب فرما۔
آمین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ